گلاسگو:’طیارہ اُڑن طشتری سے بال بال بچا‘

Image caption حادثے کے وقت جہاز چار ہزار فٹ کی بلندی پر تھا۔

برطانیہ کے شہر گلاسگو میں ایک مسافر بردار طیارے کے قریب سے گزرنے والی نامعلوم چیز کے بارے میں کی جانے والی تحقیقات کا کوئی واضح نتیجہ نہیں نکل سکا ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں مسافر بردار طیارے ائربس اے320 گلاسگو کے ہوائی اڈے پر اترنے سے کچھ دیر پہلےاس کے نیچے سے ایک نامعلوم چیز گزری تھی۔

اس وقت جہاز کی بلندی تین ہزار فٹ کے قریب تھی اور اس کے نیچے سے گزرنے والی نامعلوم چیز کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔

جہاز کے پائلٹ کے مطابق اس چیز کا جہاز سے ٹکرانے کا بہت زیادہ خطرہ تھا۔

برطانیہ کے ائرپروکس کی رپورٹ میں اس واقعے کی تفتیش کرنے والوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ شناخت نہیں کر سکے کہ جہاز کے نیچے سے کیا چیز گزری تھی۔

’اے 320 کی لینڈنگ لائٹس جل رہی تھیں، اور یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ جہاز کی بلندی چار ہزار فٹ کے قریب تھی اور وہ گلاسگو کے بیلسٹون کے علاقے کے اوپر سے گزر رہا تھا جب کپتان اور ان کے معاون نے سو میٹر کے فاصلے پر ایک چیز کو دیکھا۔‘

جہاز کے پائلٹ اور ان کے معاون کے مطابق یہ چیز نیلی یا سنہری رنگ کی تھی اور اس کا سائز غبارے سے کچھ بڑا تھا۔

کپتان نےگلاسگو ائرپورٹ کے ائر ٹریفک کنٹرولر سے پوچھا کہ کیا اس علاقے میں جہاز کے قریب نیلے اور پیلےرنگ کا کوئی اور جہاز ہے، جو جہاز کی مخالف سمت سے آیاہے اور وہ جہاز کے نیچے سے گزر گیا ہے۔ اس پر کنٹرولر کا کہنا تھا کہ وہ اس علاقے میں کسی اور سے رابطے میں نہیں ہیں اور کوئی بھی چیز ریڈار پر بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔

ائیر پروکس تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاز کے کپتان سے ملنے والی معلومات کے علاوہ کوئی اور اضافی معلومات نہیں مل سکی ہیں اور موصول ہونے والی معلومات اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ناکافی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بات کا امکان بھی بہت کم ہے کہ جہاز کے نیچے سے گزرنے والی چیز موسمیاتی غبارہ ہے کیونکہ موسمیاتی غبارے ریڈار پر دکھائی دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق’بورڈ کے اراکین جہاز کے نیچے سے گزرنے والی چیز کے تعین میں کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بورڈ کے لیے غیر واضح چیز سے خطرے کا اندازہ لگانے کے لیے معلومات ناکافی ہیں۔‘

اسی بارے میں