’دنیا کی سب سے خراب پارکنگ‘

کار بیلفاسٹ
Image caption بیلفاسٹ میں ایک کار پارکنگ کا واقعہ دلچسپیوں کی بلندیوں کو چھو گیا

آئرلیند کے شہر بیلفاسٹ کی ایک گلی میں اپنی کار کو پارک کرنے کی کوشش کرنے والی ایک بے چاری خاتون کی ویڈیو انٹرنیٹ پر زبردست مشہور ہو گئی ہے۔

خواتین کی ڈرائیونگ صلاحیتوں پر نہ جانے کتنے ہی لطیفے انٹرنیٹ کی زینت بنتے رہتے ہیں لیکن اس ویڈیو میں ایک خاتون کو اپنی کار پارک کرنے میں تیس منٹ کا وقت لگتا ہے جب وہ ہولی لینڈ کے علاقے فٹزورائے اوینو میں کاروں کے درمیان اپنی کار کئی کوششوں کے بعد بالآخر پارک کرنے کامیاب ہوتی ہیں۔

متوازی پارکنگ کی اس مایوس کن کوشش کو جب کچھ طلبہ نے دیکھا تو انھوں نے اپنے موبائل فون پر اسے ریکارڈ کر لیا۔

اس کا فوٹیج انھوں نے یو ٹیوب پر ’متوازی پارکنگ کی دنیا کی سب سے بری کوشش‘ کے عنوان سے اپ لوڈ کر دیا۔

چند ہی دنوں میں اس ویڈیو کو سات لاکھ لوگوں نے دیکھ لیا ہے۔

ستم بر جان ستم دو طلبہ سیارن دوہرتھی اور سیارن شین اور ان کے دوستوں نے اس کے ہر لمحے کی کمنٹری کی ہے جس نے اس ویڈیو کو چار چاند لگا دیا۔

سیارن ڈوہرتھی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئےکہا: ’ہم میں سے ایک نوجوان تازہ ہوا کے لیے کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا جب اس نے یہ منظر دیکھا اور دوسرے ہی لمحے ہم سبھی کھڑکی پر تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’تقریباً 15 منٹ تک ہم اسے یونہی دیکھتے رہے پھر ہم نے اس کی ویڈیو بنانی شروع کی۔ میں نے اس کی کار کو پارک کردینے کی پیش کش بھی کی۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ آخر کیوں پارک نہیں کر پا رہی ہے۔ وہاں ایک بس آسانی سے سما سکتی تھی۔‘

جب خاتون اپنی گاڑی پارک کرنے میں بار بار ناکامی کا سامنا کرتی ہے تو طلبہ خوشی کا اظہار کرتے اور ان کی یہ کہتے ہوئے حوصلہ ا‌فزائی کرتےکہ’کوئی تو ان کی مدد کرو‘، ’لڑکیو جاؤ ان کی کوئی تو مدد کرو۔‘

اس کے بعد طلبہ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں جب انہیں یہ لگتا ہے کہ وہ پارکنگ کے بجائے گاڑی موڑ رہی ہیں۔

طلبہ چیختے ہیں ’خواتین ڈرائیور‘، ’ارے اس کا دماغ گھوم گیا ہے‘، ’وہ ذار جلدی تو مڑ نہیں رہی ہے‘،۔ ایک موقعے پر تو ایسا لگتا ہے کہ کمنٹری کسی ریئلیٹی شو کی ہے جب ایک سٹوڈنٹ کہتا ہے ’پانچواں دن‘۔

30 منٹ کے بعد جب کار بالآخر پار ہو جاتی ہے تو اسے دیکھنے والے طلبہ چین کا سانس لیتے ہیں اور خاتون کے لیے نعرہ تحسین بلند کر تے ہیں۔

Image caption سیارن نے اسے پہلے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لوڈ کیا تھا جہاں رات بھر میں 30 ہزار لوگوں نے اسے دیکھا

سیارن شین کہتے ہیں: ’یہ بڑا ہی مضحکہ خیز تھا۔ بے تکا تھا۔ وہاں اتنی جگہ تھی کہ کار بہ آسانی سما سکتی تھی۔ میں خود بھی ڈرائیو کرتا ہوں اور مجھے بھی پارک کرنے میں بہت دشواریاں آتی ہیں لیکن یہ تو بالکل ہی الگ تھا۔‘

سیارا شین نے پہلے اس فوٹیج کو اپنے فیس بک پر پوسٹ کیا تھا اور ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اسے اتنے لوگ دیکھیں گے۔

انھوں نے کہا: ’یہ دوستوں کے لیے لطف اندوز ہونے کے لیے ڈال دیا تھا جب میں دوسری صبح اٹھا تو 30 ہزار لوگوں نے اسے دیکھ چکے تھے۔‘

ان طالب علموں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اس خاتون کے ساتھ ذرا بے رحم ہوگئے ہیں لیکن وہ ان سے ملنا چاہیں گے۔ سیارن ڈوہرتھی نے کہا: ’ہماری خواہش ہے کہ وہ ہماری سٹوری دیکھیں اور ہم بس ان سے ملنا چاہتے ہیں اور ذرا باتیں کرنا چاہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں