اسرائیلی طیاروں کے شام میں فضائی حملے

امریکی ذرائع کے مطابق اسرائیل کے جنگی طیاروں نے لبنان کی فضائی حدود سے شام میں فضائی حملے کیے ہیں جس میں انہوں نے گاڑیوں کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے لیے ہتھیار لے کر جا رہا تھا۔

امریکی میں موجود ایک اسرائیلی اہلکار کے مطابق یہ ہتھیار لبنان کی شدت پسند تنظیم حزب اللہ کو بھیجے جا رہے تھے۔

اسرائیلی یا شامی حکومت نے ان حملوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

امریکی اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ حملے جمعرات یا جمعے کی رات کو کیے گئے تاہم اسرائیلی طیارے شام کی فضائی حددود میں داخل نہیں ہوئے۔

دوسری جانب واشنگٹن میں موجود اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل شامی حکومت کی جانب سے دہشت گردوں خصوصاً لبنان کی شدت پسند تنظیم حزب اللہ کو کیمیائی ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنا چاہتا ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ میں شام کے سیفر نے کہا ہے کہ انھیں اسرائیل کی جانب سے شام پر کیے جانے والے حملے کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔

دریں اثناء لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی نے لنبانی آرمی کے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ دو اسرائیلی طیاروں نے جمعے کو لبنان کی فضائی حدوود کی خلاف ورزی کی۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے گزشتہ ہفتے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ اسرائیل نے رواں برس جنوری میں شام میں فضائی حملہ کیا تھا۔

انھوں نے کہ حزب اللہ جیسے اسلامی شدت پسند گروہوں کو ہتھیاروں کی منتقلی اسرائیل کے لیے ’سرخ لکیر‘ ہے اور جب اس لکیر کو عبور کیا گیا تو اسرائیل نے کارروائی کی۔

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ ابھی ایسے حالات نہیں دیکھ رہے کہ جس میں امریکی دستوں کو شام میں بھیجنے کی ضرورت پڑے۔

Image caption اگر اس بات کا واضح ثبوت ملا کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو پھر حالات تبدیل ہو سکتے ہیں

امریکی صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر اس بات کا واضح ثبوت ملا کہ شامی حکومت نے اپنے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استمعال کیا ہے تو پھر حالات تبدیل ہو سکتے ہیں تاہم اس بارے میں کوئی جلد بازی نہیں کی جائے گی۔

صدر اوباما نے جمعہ کو کوسٹا ریکا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی ایسے حالات نہیں دیکھ ر ہے کہ جس میں امریکی دستوں کو شام بھیجا جائے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں سے پہلے ہی مشورہ کر چکے ہیں اور وہ اب بھی اس بات پر متفق ہیں کہ ابھی امریکی دستوں کو شام بھیجنے کا وقت نہیں آیا۔

صدر اوباما نے کہا کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ ماضی میں شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں یہ ہتھیار کب، کہاں اور کیسے استعمال ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ اگر اس حوالے سے واضح ثبوت ملے تو پھر حالات تبدیل ہو سکتے ہیں کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ یہ ہتھیار حزب اللہ کے ہاتھ لگ جائیں۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا تھا امریکہ شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے سمیت کئی آپشنز پر غور کر رہا ہے تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

یہ پہلی بار ہے کہ امریکی انتظامیہ کے کسی اہلکار نے شامی باغیوں کو مسلح کرنے کے حوالے سے بیان دیا ہو۔

انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’ایک آپشن باغیوں کو مسلح کرنے کی ہے۔ آپ ایک زاویے کو دیکھتے ہیں اور اس پر سوچ بچار کرتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ یہ کریں گے یا نہیں کریں گے۔ ان آپشنز پر عالمی برادری کے ساتھ بات چیت کرنی ہو گی‘۔

خیال رہے کہ سعودی عرب اور قطر پہلے ہی شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مارچ سنہ 2011 سے شروع ہونے بغاوت میں اب تک 70,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق شام کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں، اور حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی برادری میں اس ذخیرے کے تحفظ کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

شام کی حکومت نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

اسی بارے میں