جیمز ڈوبنس پاکستان، افغانستان کے نئے ایلچی

جیمس ڈوبنس
Image caption اس سے قبل جیمس ڈوبنس افغانستان میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جیمز ڈوبنس کو پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کا خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے۔

یہ بات امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان پیٹرک وینٹرل نے جمعے کو بتائی۔

جان کیری نے اس تقرری کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’یہ افغانستان اور پاکستان کے لیے انتہائی اہم دور ہے۔ دونوں ممالک سیاسی، حفاظتی اور معاشی تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں اور آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں بہت جلد انتخابات ہونے والے ہیں جو کہ اپنے آپ میں تاریخی نوعیت کے حامل ہیں‘۔

واضح رہے کہ جیمز ڈوبنس کو افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے مارک گروس مین کی جگہ مقرر کیا گیا ہے جو دسمبر میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

مارک گراس مین کو سنہ 2010 میں رچرڈ ہال بروک کے اچانک انتقال کے بعد یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وینٹرل نے کہا کہ جان کیری نے اس تقرری کے متعلق افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور پاکستانی صدر آصف علی زرداری کو مطلع کر دیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی کو بھی اس حوالے سے مطلع کر دیا گیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بوسنیا، کوسوو، ہیٹی اور صومالیہ میں امریکہ کے لیے اہم خدمات انجام دینے والے سفارت کار جیمز ڈوبنس کو افغانستان سے سنہ 2014 تک امریکہ کے مجوزہ انخلاء کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

خطے میں اس اہم تقرری کا اعلان کرتے ہوئے جان کیری نے کہا ’ وہ اس خطے کی گہری سمجھ رکھتے ہیں اور یہاں ان کے پرانے رشتے ہیں اور میں ان کا بہت شکر گزار ہوں کہ انھوں نے یہ ذمہ داری قبول کی ہے‘۔

جان کیری نے یہ بھی کہا کہ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سنہ 2001 میں جب دوبارہ کابل میں امریکی سفارت خانہ کھولا گیا تو انھوں نے ہی وہاں امریکی پرچم لہرایا تھا۔

جیمز ڈوبنس کی تقرری کے بارے میں جان کیری نے کہا کہ انہیں ایک ایسے شخص کی تلاش تھی جو ’خطے میں سفارتی کوششیں جاری رکھے اور تصادم کو پرامن نتیجے تک لائے‘۔

واضح رہے کہ جیمز ڈوبنس اس سے قبل طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں امریکی سفیر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

انھون نے بون کانفرنس میں امریکہ کی نمائندگی کی تھی جہاں نئی افغان حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوئی تھی۔

اس تقرری سے قبلجیمز ڈوبنس رینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی اینڈ ڈیفنس پالیسی کے ڈائرکٹر کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کی مختلف ذمہ داریوں میں یورپی امور کے نائب وزیر خارجہ کے علاوہ صدر کے خصوصی صلاح کار کی ذمہ داریاں بھی شامل تھیں۔

اسی بارے میں