ملائیشیا:الیکشن میں حکمراں جماعت کامیاب

ملائیشیا میں منعقد ہونے والے انتخابات میں حکمراں نیشنل فرنٹ اتحاد نے سادہ اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

ان انتخابات میں وزیرِاعظم نجیب رزاق کے حکمراں اتحاد کو حزبِ مخالف کے رہنما اور سابق نائب وزیراعظم انور ابراہیم سے سخت چیلنج کا سامنا تھا مگر الیکشن کمیشن کے مطابق دو تہائی نشستوں کے نتائج آنے کے بعد نیشنل فرنٹ نے 222 رکنی ایوان میں حکومت سازی کے لیے کم از کم درکار 112 نشستیں جیت لی ہیں۔

انور ابراہیم نے نیشنل فرنٹ پر انتخابات سے قبل اور اس کے دوران دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ملک میں درج شدہ ووٹروں میں سے 80 فیصد نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔

انتخابات میں فتح کے بعد 59 سالہ نجیب رزاق نے ملائیشیا کے تمام باشندوں سے کہا کہ وہ ان کے اتحاد کی فتح کو تسلیم کر لیں۔ ٹی وی پر اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں دنیا کو دکھانا ہوگا کہ ہم ایک سمجھدار جمہوریت ہیں۔‘

نیشنل فرنٹ کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک 117 نشستیں جیتی ہیں جبکہ اس کے مخالف پکتان رکایت کو 65 نشستیں ملی ہیں۔

پکتان رکایت کے رہنما انور ابراہیم کا کہنا ہے کہ وہ شکست تسلیم نہیں کریں گے۔ نتائج کے اعلان کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم ان انتخابات کو دھوکہ دہی پر مبنی سمجھتے ہیں اور الیکشن کمیشن ناکام ہوگیا ہے۔‘

ان انتخابات سے پہلے سیاسی تجزیہ نگاروں کو محسوس ہو رہا تھا کہ 1957 میں ملائشیا کی آزادی کے بعد پہلی مرتبہ شاید حزب اختلاف برسراقتدار جماعت کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائے گی مگر ایسا نہیں ہو سکا۔

برسراقتدار اتحاد کے سر جہاں معاشی ترقی اور ملک کو استحکام بخشنے کا سہرا جاتا ہے وہیں اس پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں