شمالی کوریا نے ساحل سے میزائل ’ہٹا لیے‘

Image caption شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے اندر مخصوص جگہوں پر ایٹمی حملوں کی دھمکی دی تھی

ایک امریکی عہدے دار نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے ملک کے مشرقی ساحل پر ایک لانچ سائٹ سے سے دو میزائل ہٹا لیے ہیں۔ اس سے جزیرہ نما میں کشیدگی میں کمی کا عندیہ ملتا ہے۔

شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے اندر مخصوص مقامات پر ایٹمی حملوں کی دھمکی دی تھی۔

یہ میزائل کسی بھی لمحے چلائے جانے کے لیے تیار تھے، لیکن ایک امریکی دفاعی عہدے نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انھیں ’ہٹا لیا گیا ہے۔‘

فروری می ںشمالی کوریا کی جانبت سے تیسرا ایٹمی تجربہ کرنے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔

شمالی کوریا اس بات پر برہم ہے کہ اس پر اقوامِ متحدہ نے پابندیاں لگائی ہیں اور جنوبی کوریا نے امریکہ سے مل کر بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں کی ہیں۔

جنوبی کوریا کے خبررساں ادارے یون ہاپ نے بتایا ہے کہ جنوبی کوریا کی نئی آبدوز شکن جنگی مشقیں اتوار کو شروع ہوئیں اور جمعے تک جاری رہیں گی۔

واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگارجین لٹل کہتی ہیں کہ یہ اقدام تاحال اس بات کی سب سے واضح نشانی ہے کہ شمالی کوریا میزائل داغنے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔

تاہم امریکہ کے قومی سلامتی کے ادارے کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا کے رویے کے پیشِ نظر اس اقدام کو اچھی خبر کے طور پر منانا فی الحال قبل از وقت ہو گا۔

اسی دوران پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل نے میزائلوں کے مبینہ طور ہٹائے جانے پر براہِ راست تبصرے سے گریز کیا البتہ نامہ نگاروں کو بتایا، ’جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ اشتعال انگیزیوں میں وقفہ ہے۔‘

انھوں نے کہا، ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ جزیرہ نما کوریا کے امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔‘

شمالی کوریا نے 2010 میں ایک فوجی پریڈ کے دوران موسودان میزائلوں کی نمائش کی تھی، البتہ اب تک ان کا تجربہ نہیں کیا۔

اسی بارے میں