شام:’باغیوں نے اعصاب شکن گیس استعمال کی‘

Image caption کارلا ڈل پونٹے اقوام متحدہ کی شام کے تنازع کے حوالے سے ایک آزادانہ تفتیشی ٹیم کی سربراہ ہیں

اقوام متحدہ کی ایک اعلیٰ تفتیس کار کے مطابق شام میں جاری تنازع کے متاثرین کے بیانات قلمبند کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ باغیوں نے اعصاب شکن گیس سارین کا استعمال کیا ہے۔

کارلا ڈل پونٹے نے ایک سوئس ٹی وی کو انٹرویو میں بتایا کہ اس حوالے سے’ٹھوس‘ اور واضح شکوک و شبہات ہیں تاہم اس کے ابھی ناقابل تردید شواہد نہیں ملے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کو ابھی تک سرکاری سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

واضح رہے کہ شام پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے مغربی ممالک کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی اہلکار کارلا ڈل پونٹے نے مزید کہا ہے کہ’ ہمارے تفتیش کاروں نے ہمسایہ ممالک میں شام کے متاثرین، ڈاکٹروں اور فیلڈ ہسپتالوں میں انٹرویو کیے‘۔

’ان کی گزشتہ ہفتے کی رپورٹ جو میں نے بھی دیکھی ہے، اس میں متاثرین کے طریقۂ علاج سے اس کے ٹھوس شواہد ملتے ہیں تاہم سارین گیس کے استعمال کے واضح شواہد ابھی نہیں ملے ہیں۔

کارلا ڈل پونٹے اقوام متحدہ کی شام کے تنازع کے حوالے سے ایک آزادانہ تفتیشی ٹیم کی سربراہ ہیں، انہوں نے اس امکان کو رد بھی نہیں کیا کہ ہو سکتا ہے کہ حکومتی فورسز کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہو، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

کارلا ڈل پونٹے نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی ہیں کہ سارین گیس کب اور کہاں استعمال کی گئی۔

یہ کمیشن اگست سال دو ہزار گیارہ میں قائم کیا گیا تھا تاکہ شام میں حقوق انسانی کی مبینہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

Image caption شام میں حکومت نے باغیوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے الزامات عائد کیے ہیں

اقوام متحدہ کا ایک علیحدہ کمیشن شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مسئلے پر تحقیقات کر رہا ہے۔

یہ کمیشن شام غیرمشروط طور پر وہاں جانے کی تیاری کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ اسے شام میں مصدقہ الزامات کی تفتیش کا پورا حق دیا جائے۔

شام میں حالیہ دنوں باغیوں اور حکومت دونوں نے ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات عائد کیے ہیں۔

خیال ہے کہ برطانیہ نے شام سے نمونے حاصل کیے تھے جنھیں ایک دفاعی تجربہ گاہ میں ٹیسٹ کیاگیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا، ’شام سے حاصل کردہ مواد میں سارین پائی گئی ہے۔‘

ایک اندازے کے مطابق شام کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں، اور حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی برادری میں اس ذخیرے کے تحفظ کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

اتوار کو شام کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے شام میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے سے اس کے النصرہ فرنٹ کے شدت پسندوں سمیت’دہشت گردوں‘سے رابطوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔

شامی حکومت اپنے خلاف برسرِ پیکار باغیوں کو دہشت گرد کہتی ہے۔

اس سے قبل شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے دارالحکومت دمشق کے نواح میں جبلِ قاسیون نامی علاقے میں واقع ایک فوجی تحقیقی مرکز سمیت تین مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنان کی شدت پسند تنظیم حزب اللہ کو بھیجے جانے والے ہتھیاروں کو نشانہ بنایا ہے تاہم اسرائیل کی جانب سے سرکاری طور پر اس حملے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مارچ سنہ 2011 سے شروع ہونے بغاوت میں اب تک 70,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں