دولت مشترکہ اجلاس، ملکہ برطانیہ شرکت نہیں کریں گی

Image caption ملکہ الزبتھ اور اُن کے بیٹے شہزادہ چارلز کے لیے یہ ایک اہم فیصلہ ہے

برمنگھم پیلیس کے مطابق اس سال نومبر میں ہونے والے دولتِ مشترکہ کے سربراہی اجلاس میں ملکہ الزبتھ شرکت نہیں کریں گی۔ سنہ انیس سو تہتر کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ملکہِ برطانیہ دولتِ مشترکہ کے سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گی۔

سری لنکا میں ہونے والے اس اجلاس میں ملکہ کی نمائندگی شہزادہ چارلز کریں گے۔

بی بی سی کے شاہی امور کے نامہ نگار پیٹر ہنٹ کا کہنا ہے کہ ملکہ کی عدم شرکت کی وجہ اُن کی عمر اور بیرونی سفر میں کمی کرنا ہے۔

ستاسی سالہ ملکہِ برطانیہ دولتِ مسترکہ کی سربراہ ہیں۔ ہر دو برس کے بعد دولتِ مشترکہ کے ممالک کے سربراہان کے درمیان عالمی امور پر تبادلہِ خیال کرنے کے لیے یہ اجلاس منعقد کیا جاتا ہے۔

ملکہ الزبتھ نے پہلی بار سنہ انیس سو تہتر میں کینیڈا میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی تھی اور تب سے اب تک تمام اجلاس میں وہ شامل رہی ہیں۔ آخری بار یہ اجلاس دو ہزار گیارہ میں آسٹریلیا میں منعقد کیاگیا تھا۔

ملکہ الزبتھ اور اُن کے بیٹے شہزادہ چارلز کے لیے یہ ایک اہم فیصلہ ہے۔ ملکہ نے سنہ انیس سو تہتر سے اب تک تمام دولتِ مشترکہ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی ہے۔

شاہی امور کے اہلکاروں کا اصرار ہے کہ ملکہ کی عدم شرکت کی وجہ اُن کی بڑھتی ہوئی عمر ہے نہ کہ اس بات سے کترانہ کہ کیا اس اجلاس کو سری لنکا ہونا بھی چاہیے یا نہیں۔

انسانی حقوق کے کارکن جو کہ سری لنکا کی حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتے ہیں، شاید اب شہزادہ چارلز پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔

پسِ پردہ شہزادہ چارلز کے دولتِ مشترکہ کے سربراہ بننے کی تیاری کر لی گئی ہے۔ یہ عہدہ خود ہی اُن کے حصہ میں نہیں آتا ہے۔

دولتِ مشترکہ میں نمائندگی بطور مستقبل کے بادشاہ شہزادہ چارلز کی اب تک کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک ہوگی۔ اس سے پہلے وہ ملکہ کے ہمراہ سنہ دو ہزار سات میں اس اجلاس میں شرکت کر چکے ہیں۔

دولتِ مشترکہ کے اجلاس کے سری لنکا میں انعقاد پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ سری لنکا کی خانہ جنگی کے اختتامی دونوں میں حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک اس اجلاس سے بائیکاٹ کیا جائے۔

اسی بارے میں