ڈھاکہ:ہلاکتیں 800 سے زیادہ، 18 کارخانے بند

ڈھاکہ
Image caption عمارت کے چھ سو ٹن ملبے کو ہٹانے کا عمل جاری ہے

بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت ڈھاکہ کے نواحی علاقے سوار میں آٹھ منزلہ عمارت کے انہدام سے مرنے والوں کی تعداد 800 سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

حکام کے مطابق اس حادثے کے بعد اب تک ملک میں ملبوسات تیار کرنے والے اٹھارہ کارخانوں کو حفاظتی بنیادوں پر بند کیا گیا ہے۔

بند کیے جانے والے کارخانوں میں سے دو چٹاگانگ اور سولہ ڈھاکہ میں واقع ہیں جہاں چوبیس اپریل کو عمارت گرنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ گرنے والی عمارت کے ملبے سے ابھی تک لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ جاری ہے۔

رانا پلازہ نامی اس عمارت میں ملبوسات تیار کرنے والے پانچ کارخانے قائم تھے اور یہ بنگلہ دیش کی تاریخ کا سب سے بڑا صنعتی حادثہ ہے۔

پولیس نے اس معاملے میں اب تک عمارت کے مالک سمیت 9 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار شدگان میں فیکٹریوں کے مالکان اور انجینيئرز بھی شامل ہیں اور ان پر لاپرواہی برتنے کا الزام ہے۔

واضح رہے کہ اس عمارت میں منہدم ہونے سے ایک دن قبل ہی شگاف پڑنے شروع ہو گئے تھے لیکن وہاں کام کرنے والوں کو کام جاری رکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔

جمعرات کو ڈھاکہ پولیس نے ایک اور انجینیئر کو حراست میں لیا۔ پولیس کے مطابق عبدالرزاق خان رانا پلازہ کے مالک محمد سہیل رانا کے مشیر تھے۔ رانا سہیل پر عمارت میں غیرقانونی طور پر منزلیں تعمیر کرنے کا الزام بھی ہے۔

اس حادثے کے بعد سے جمعرات کو بنگلہ دیش میں پہلی مرتبہ ملبوسات تیار کرنے والے کارخانوں میں کام شروع ہوا ہے۔ اس سے قبل حادثے کے بعد سے فیکٹریاں بند تھیں کیونکہ وہاں مسلسل مظاہرے ہو رہے تھے۔

مظاہرین حادثے کے ذمہ دار افراد کے لیے سخت ترین ‎سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عمارت کے انہدام سے ہونے والی ہلاکتیں قتل کے مترادف ہیں۔

اسی بارے میں