ترکی کی شام کو جوابی کارروائی کی دھمکی

Image caption ترکی کو شبہ ہے کہ حملوں میں شام کی خفیہ ایجنسی ملوث ہے

شام سے ملحقہ سرحدی علاقے ریحانلی میں دو کار بم دھماکوں کے بعد ترکی نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو نے کہا کہ ان حملوں میں ملوث افراد سے تعاون کرنے والوں کا پتا لگانا چاہتے ہیں:’ ہر کسی کو جوابدہ ہونا پڑے گا‘

شام سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے آبائی علاقے ریحانلی میں کار بم دھماکوں میں 43 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ترکی کو شبہ ہے کہ ان حملوں میں شام کی خفیہ ایجنسی ملوث ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا ہے، ’ کچھ (گروہ) ایسے ہیں جو ترکی کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں، ہم انھیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ کسی کو بھی ترکی طاقت کو آزمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری سکیورٹی فورسز ضروری اقدامات کریں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ نیٹو کا ہنگامی اجلاس بلانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ایسے اجلاس کا انعقاد ممکنہ جوابی کارروائی کا پہلا قدم ہو گا۔

ترکی کے نائب وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ بم حملوں میں ملوث افراد کا شام کی خفیہ ایجنسی سے رابطہ تھا۔ انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا، ’ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس گروہ اور اس کے افراد کا رابطہ شام کی حکومت حامی خفیہ ایجنسی سے ہے۔‘

انھوں نے گروہ کا نام ظاہر نہیں کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ حملہ ترکی کو شام کے مہاجرین کے خلاف اکسانے کے مترادف ہے۔

ترکی شام میں خانہ جنگی کے خلاف ہے اور صدر بشار الاسد کے خلاف سخت ناقدین میں سے ہے۔

امریکہ اور نیٹو نے بم دھماکوں کی مذمت کی ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ جرمنی کے شہر برلن کے دورہ پر ہیں، انھوں نے کہا، ’ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ بم دھماکے اس وقت ہو رہے ہیں جب شام کے مسئلے کے حل میں سفارتی کوشیش تیز ہو گئی ہیں‘

بی بی سی کے عالمی اُمور کے نامہ نگار جیمز رینلڈ کے مطابق بم حملوں سے ترک وزیراعظم طیب اردگان پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ طیب اردگان نے ہمیشہ شام کی جنگ میں شامل نہ ہوتے ہوئے مخالفین کی حمایت کی ہے لیکن ان حملوں کے بعد طیب اردگان کے لیے شام کے مسئلے سے دور رہنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔

آئندہ کچھ دنوں میں ترک وزیراعظم شام کے مسئلے پر واشنگٹن میں امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کریں گے۔

شام سے نقل مکانی کرنے والے مہاجرین ریحانلی کے علاقے سے ترکی میں داخل ہوتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بم دھماکے کے بعد مقامی افراد متاثرین کی مدد کر رہے ہیں کہ اتنے میں دوسرا بم دھماکا ہو گیا۔

حالیہ مہینوں میں ریحانلی کا سرحدی علاقے کئی مرتبہ شدت پسندوں کا نشانہ بنے ہیں۔