لیبیا: بن غازی میں کار بم دھماکہ، نو ہلاک

بن غازی دھماکہ
Image caption حالیہ دنوں میں لیبیا نے تشدد کی نئی لہر نظر آتی ہے

لیبیا کے شہر بن غازی میں ایک ہسپتال کے نزدیک ایک کار بم دھماکے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

وزارت دفاع کے اہل کار صالح البرغاثی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس دھماکے میں سترہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تاہم کچھ دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ کار بم حملے میں صرف تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ دھماکہ بظاہر حالیہ دنوں ہونے والے دھماکوں کا سلسلہ نظر آتا ہے۔

سابق صدر معمر قذافی کے طویل دور حکومت کے بعد سے لیبیا میں سیکورٹی کی صورت حال نازک رہی ہے۔

برغاثی نے بی بی سی کو بتایا کہ بن غازی کے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد ایک ٹیوٹا کار میں رکھا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ دھماکہ جلاء ہسپتال کے باہر کار پارکنگ کے پاس ہوا۔

Image caption لیبیا میں سیکوریٹی اہم مسئلہ ہے

لیبیا کے نائب وزیر خارجہ عبداللہ مسعود کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’بم دھماکے سے ریستوران پوری طرح سے تباہ ہو گیا اور قریبی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔‘

ایسے میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ابھی تک کسی ایسے شدت پسندگروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جن کے بارے میں یہ باور کیا جاتا ہے کہ 2011 میں کرنل قذافی کی حکومت ہٹانے میں اُن اہم کردار تھا۔

بم حملے کے بعد جائے وقوع پر جمع ہونے والی بھیڑ مشتعل ہوگئی اورانھوں نے شدت پسندوں پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے حکام پر زور دیا کہ وہ انہیں شہر سے نکال باہر کریں۔

خبر رساں ادارے نے ایک شخص کا یہ بیان نقل کیا ہے: ’یہ ہمارے بچوں کا گوشت ہے، یہی ہے جو شدت پسندوں نے ہمیں دیا ہے۔ ہمیں یہاں صرف پولیس اور فوج کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں