برما: روہنجیا مسلمانوں کی کشتیاں الٹ گئیں

برما کے مغربی علاقے میں سمندری طوفان کے باعث روہنجیا مسلمانوں کی تین کشتیاں ڈوب گئی ہیں۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان کے خطرے کے پیشِ نظر تقریباً 100 افراد کو کشتیوں کی مدد سے باہر نکالا جا رہا تھا۔

گزشتہ شب رخائن ریاست کے ایک علاقے میں جہاز ڈوب گیا جس میں 40 افراد کو بچا لیا گیا ہے جبکہ آٹھ افراد کی لاشیں ملیں ہیں۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ سوموار کی شب تین کشتیاں مشکلات کا شکار ہوئیں۔ جن میں سے ایک کشتی جس میں انجن نصب تھا وہ باقی دو کشتیوں کو بھی کھینچ رہی تھی۔

اطلاعات ہیں کہ تینوں کشتیوں پر گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے۔

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کی سربراہ باربرہ مینزی نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگوں کی تلاش کا کام جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بظاہر نظر آ رہا ہے کہ طوفان کی آمد سے کشتیاں کیمپوں سے نکل گئی تھیں۔اس سے پہلے کشتیوں پر 200 افراد کے سوار ہونے کی اطلاعات تھی لیکن بعد میں اقوام متحدہ کے مطابق کشتیوں پر 100 افراد سوار تھے۔

گزشتہ سال برما میں پرتشدد واقعات کے بعد ہزاروں روہنجیا مسلمان عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں۔اقوام متحدہ نے طوفان سے قبل لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر زور دیا تھا۔ اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے روہنجیا مسلمان نچلے ساحلی علاقوں میں رہ رہے ہیں جہاں سیلاب اور بلند لہروں سے طوفان کا خطرہ ہے۔

جمعرات کو بنگلہ دیش کے ساحل سے طوفان کے ٹکراؤ کے خطرے کے بعد رواں ہفتے برما کے حکام نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کیا۔ طوفان کے باعث برما کے مغربی علاقوں میں شدید بارش ہوئی اور سیلاب آیا۔ سیلاب سے رخائن میں 1 لاکھ 40 ہزار کے آبادی کو خطرہ ہے ۔ اس علاقے میں آبادی کی اکثریت روہنجیا مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

گزشتہ سال جون سے اکتوبر کے دوران برما میں روہنجیا مسلمانوں اور بدھ مت کے پیریکاروں کے مابین فسادات کے باعث روہنجیا مسلمانوں نے اندرون ملک نقل کی۔

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ایمینسٹی انٹرنیشنل کی ایشیا پیسفک خطے کی ڈپٹی ڈائریکٹر ازیبیلا ارادون کا کہنا ہے کہ ’حکومت کو کئی مرتبہ کہا گیا ہے کہ وہ رخائن ریاست میں اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے افراد کی مناسب رہائش کا انتظام کرے۔ حکومت نے اگر فوری اقدامات نہ اٹھائے تو ہزاروں افراد کی زندگی خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔‘

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مقامی روہنجیا آبادی کے افراد خطرات کے باوجود علاقے سے نکلنا نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پناہ لینے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے۔ روہنجیا مسلمان آبادی کے ایک فرد نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم طوفان کے باعث پریشان نہیں ہیں ہمارے پاس کچھ کھانے کے لیے نہیں ہے۔ بہت سے لوگ پریشان ہیں لیکن ہمیں کوئی اندازہ نہیں ہے کہ ہم کیا کریں ’

خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے مطابق سوموار کو طوفان سری لنکا کے شمال مشرقی علاقے سے گزرا۔ توقع ہے کہ شمالی جانب رخ کرتے ہوئے سمندری لہریں مزید بلند ہوں گی اور ہفتے کے اختتام تک برما پہنچ جائےگا۔

پانچ سال قبل نرگس نامی طوفان نے برما میں شدید تباہی مچائی تھی۔ طوفان کے باعث 1 لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک اور تین لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے۔.