روس ’سی آئی اے کے ایجنٹ‘ کو ملک بدر کرے گا

Image caption روس کی طرف سے جاری کردہ اس تصویر میں رائن فوگل کو دکھایا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ امریکی جاسوس ہیں

روس نے کہا ہے کہ وہ اس امریکی سفارت کار کو ملک بدر کر دے گا جسے ماسکو میں ایک روسی انٹیلی جنس افسر کو ورغلانے کے الزام میں تھوڑی دیر کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔

اس امریکی سفارت کار کا نام رائن فوگل ہے اور اسے رات کو حراست میں لیا گیا تھا جب انھوں نے بظاہر سنہرے بالوں والی وگ پہن رکھی تھی۔

روسی وزارتِ خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر انھیں ’سرد جنگ کے دور کے سے اشتعال انگیز افعال‘ کی پاداش میں ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دیا گیا ہے۔

ویب سائٹ پر مزید کہا گیا ہے کہ ماسکو امریکی سفیر مائیکل میک فال کو طلب کیا گیا تھا۔

فوگل ماسکو میں امریکی سفارت خانے میں تھرڈ پولیٹیکل سیکریٹری کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا: ’ہم تصدیق کرتے ہیں کہ ماسکو میں ہمارے سفارت خانے کے ایک افسر کو مختصر دورانیے کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، اور بعد میں رہا کر دیا گیا۔ ہم نے روسی وزارتِ خارجہ کا بیان بھی دیکھا ہے اور اس بارے میں مزید کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔‘

اطلاعات کے مطابق اس اہل کار کے پاس سے بڑی مقدار میں رقم، تکنیکی آلات اور روسی اہل کار کے لیے تحریری ہدایات برآمد کی گئی تھیں۔

روسی میڈیا پر فوگل کی حراست کی خبر بڑے پیمانے پر نشر کی گئی۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو روزن برگ کہتے ہیں کہ اس واقعے سے ایک ایسے وقت میں ناخوش گوار صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے جب امریکہ اور روس شام کے معاملے پر نازک سفارت کاری میں سرگرم ہیں اور دوطرفہ تعلقات میں سرد مہری ختم کرنے کے لیے محتاط قدم اٹھا رہے ہیں۔

تاہم ان کا خیال ہے کہ اس واقعے کے طویل مدت سیاسی مضمرات نہیں ہوں گے کیوں کہ دونوں ممالک جانتے ہیں کہ سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ جاسوسی ختم نہیں ہوئی۔

روس کے وفاقی سکیورٹی ادارے نے اس سے قبل ایسی تصاویر نشر کی تھیں جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ فوگل کو حراست میں لیے جانے کے دوران اور بعد میں لی گئیں تھیں۔

ان میں فوگل نے ایک نیلی چارخانے والی قمیص پہن رکھی ہے اور انھیں زمین پر ہاتھ بندھا ہوا دکھایا گیا ہے۔

تصاویر میں ان کے قبضے سے مبینہ طور پر برآمد ہونے والی اشیا بھی دکھائی گئی ہیں۔ ان میں 500 یورو کے نوٹ، دو وگیں، کمپس، نقشہ، چاقو، سیاہ چشمہ اور ایک چھوٹا موبائل فون شامل ہیں۔

اس کے علاوہ روسی میڈیا نے ایک خط بھی دکھایا ہے جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ فوگل نے روسی افسر کو لکھا تھا۔ اس خط میں مکتوب الیہ کو اس کے تجربے، مہارت اور تعاون کے بدلے خطیر رقم کی پیش کش کی گئی ہے۔

خط میں مزید لکھا گیا ہے، ’ہم آپ کو طویل مدت تعاون پر دس لاکھ ڈالر سالانہ کی پیش کش کر سکتے ہیں، اور اگر ہمیں مفید معلومات ملیں تو اضافی بونس بھی دیے جائیں گے۔‘

خط کے آخر میں صرف ’آپ کے دوست‘ لکھا ہوا ہے۔

بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار گورڈن کوریرا کہتے ہیں کہ سرد جنگ ختم ہو گئی ہے لیکن جاسوسی ختم نہیں ہوئی۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے راز جاننا چاہتے ہیں۔ مثلاً روس شام اور ایران کے معاملے میں حقیقتاً کیا سوچ رہا ہے اور اس سلسلے میں کیا کرنا چاہتا ہے۔

دونوں ممالک کے دوران جاسوسی کا آخری بڑا کیس 2010 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب دس افراد نے امریکہ کے خلاف روس کے لیے جاسوسی کرنے کا اقرار کیا تھا۔

ان افراد کو چار ایسے افراد کے عوض امریکہ بدر کر دیا گیا تھا جن پر روس کا الزام تھا کہ وہ روس میں مغرب کے لیے جاسوسی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں