شام کے معاملے پر تمام راستے کھلے ہیں:اوباما

Image caption صدر اوباما نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے مہلک ہونے کی حقیقت سے ساری دنیا واقف ہے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ انہوں نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ثبوت دیکھے ہیں لیکن کوئی بھی قدم اٹھانے سے قبل وہاں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں حقیقی معلومات کا حصول انتہائی اہم ہے۔

جمعرات کو واشنگٹن میں ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ان کا ملک شام کے معاملے میں سفارتی اور فوجی ’آپشنز‘ سمیت ہر قسم کے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کے پاس جو آپشنز ہیں ان کا دائرہ کافی وسیع ہے اور میرے پاس ، سفارتی اور فوجی دونوں قسم کے اقدامات کرنے کا حق ہے کیونکہ شام میں استعمال ہونے والے کیمیائی ہتھیار ہماری قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ ہمارے اتحادیوں اور ہمسایہ ممالک کے لیے بھی خطرہ ہیں‘۔

صدر اوباما نے مزید کہا کہ شام میں مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور صرف یہی بات ، بین الاقوامی برادری کے لیے اس مسئلے میں مداخلت کے لیے کافی ہونی چاہیے۔

براک اوباما نے کہا کہ ’ہمارے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ پہلے اس بات کا تعین کر لیا جائے کہ وہاں دراصل ہو کیا رہا ہے؟ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ روایتی ہتھیاروں کی وجہ سے ہی ، دسیوں ہزار افراد لقہ اجل بن چکے ہیں اور یہ بات بین الاقوامی برادری کے لیے اس مسئلے کی سنگینی سمجھنے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ اور یہی وجہ ہےکہ میں نے اور ترکی کے وزیراعظم نے ان اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی ہے جو ہم شام میں حزب اختلاف کو مستحکم کرنے اور بشار الاسد پر دباؤ ڈالنے کے لیے کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ ان کے اقتدار کا وقت ختم ہوا‘۔

اس سے قبل شام میں گزشتہ ماہ ہونے والے حملوں میں بی بی سی کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مبینہ شواہد ملے ہیں۔

حلب کے علاقے سراقب میں عینی شاہدین نے بی بی سی کے نامہ نگار ایئن پنیل کو بتایا کہ سرکاری ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دو ایسے آلات پھینکے گئے جن میں زہریلی گیس بھری ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ رواں سال اپریل میں حکومتی فورسز نے سراقب پر شدید بمباری کی تھی۔

Image caption ترک وزیراعظم نے دوسری جانب اپنے غزہ کے دورے پر میعنہ وقت پر جانے کے ارادے پر قائم رہنے کا عندیہ دیا

مقامی ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بی بی سی کوبتایا کہ اُن کے پاس آٹھ ایسے مریض داخل ہوئے ہیں جنہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔بعض کو متلی کی شکایت تھی جبکہ کچھ کی آنکھ کی پتلی ساکت ہو گئی تھی۔ہسپتال میں زیر علاج مریضوں میں سے ایک خاتون مریم خاتب بعد میں انتقال کرگئی۔

مرنے والی خاتون کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اُن میں آرگینوفاسفیٹ نامی زہر کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ جس کے بعد خاتون کے نمونے مزید معائنے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔

بی بی سی کو بہت سی ایسی ویڈیو بھی ملی ہیں جن میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد تو موجود ہیں لیکن یہ ویڈیوز کتنی غیر جانبدار ہیں ان کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔

شام کی حکومت نے لڑائی میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سختی سے تردید کی ہے۔

برطانیہ کی جوائنٹ کیمیکل بایولوجیکل ریڈیولوجیکل نیوکلئیر رجمنٹ کے سابق سربراہ ہمیش برٹن گورڈن کا کہنا ہے کہ سراقب سے ملنے والے ثبوت ٹھوس تو ہیں لیکن ابھی بھی ’نامکمل ‘ہیں۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے ، ترکی میں سابق امریکی سفیر ، جیمز جیفری نے بتایا کہ اب امریکہ کی طرف سے مزید ایکشن ، محض کچھ ہی وقت کی بات ہے۔

جیفری جیمز نے کہا کہ ’شام اب کیمیائی ہتھیاروں کی جنگ مسلط کر رہا ہے ۔ ترکی میں ہونے والا شدید حملہ اور شام میں اسرائیلی حملے ، سب اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس جنگ پر قابو نہیں پایا جا سکتا ۔ ہم ، یعنی امریکہ اب اس معاملے میں ملوث ہے چاہے ہمیں یہ بات اچھی لگے یا نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں کرنا کیا ہے ۔ صدر اوباما یہ بات سمجھتے ہیں ان کے عوام بھی سمجھتے ہیں ، اور سوال یہ ہےکہ ہم عملی مظاہرہ کب کرتے ہیں‘۔

اسی بارے میں