’سیاسی تبدیلی شام کے مسئلے کا بہتر حل‘

Image caption اقوام متحدہ کے مطابق شام میں گزشتہ دو سال سے جاری لڑائی میں اب تک تقریباً 80 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے شام میں سیاسی تبدیلی کے حوالے سے قراردار کی منظوری دی ہے جس میں سیاسی تبدیلی کو ’مسئلے کا بہتر اور پر امن‘ حل قرار دیا گیا ہے۔قرداد میں حکومت کی جانب سے لڑائی میں بھاری ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت بھی کی گئی ہے۔

اس قرارداد میں شام میں سیاسی تبدیلی کو ’مسئلے کا بہتر اور پرُامن‘ حل قرار دیتے ہوئے کشیدگی میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے اور ’انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کی پامالی‘ پر برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔

بدھ کو پاس ہونے والے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شام کے ہمسایہ ممالک کی مالی مدد کی جائے جہاں تقریباً 15 لاکھ شامی مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں اور ملک کے اندر نقل مکانی کرنے والے 42 لاکھ سے زیادہ افراد کی حالتِ زار بھی بہتر بنائی جائے۔

اقوام متحدہ میں شام کی حکومت مخالف قرارداد عرب ممالک کے جانب سے پیش کی گئی تھی۔ قرارداد کی حمایت 107 ممالک نے کی جبکہ 12 ممالک نے اس کی مخالفت کی۔

اقوام متحدہ میں روس کے نائب مستقل نمائندے الیگزینڈر پینکن نے کہا کہ’ قرارداد کا متن یکطرفہ‘ ہے۔

’ اس میں مسلح حزبِ اختلاف کی دہشت گردی سمیت غیر قانونی کاروائیوں کی تمام ذمہ داری بھی شام کی حکومت کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ جو حقیقیت کے برعکس ہے۔‘

لیکن اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندہ کا کہنا تھا کہ قرارداد شام کے مسئلے پر امریکہ اور روس کے حالیہ اقدامات سے مطابقت رکھتی ہے۔’ قرارداد کی منظوری سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ سیاسی حل ہی شام کے مسئلے کا بہترین حل ہے‘

شام کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات شام کے سیاسی حل کے لیے امریکہ اور روس کی سفارتی کوشیشوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق شام میں گزشتہ دو سال سے جاری لڑائی میں اب تک تقریباً 80 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک سال قبل بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایسی ہی قرارداد پیش کی تھی جیسے بھاری اکثریت سے منظورگیا تھا۔

دوسری طرف شام کے مشرقی شہر حلب میں جیل کے باہر شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ حزب اختلاف کے ذرائع کے مطابق باغیوں نے خودکش کار بم دھماکوں کے ذریعے جیل پر حملہ کیا ہے۔ جیل میں 4 ہزار قیدی موجود ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جوابی کارووائی میں باغیوں کے کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں