ایران:’خواتین صدر بننے کی اہل نہیں‘

Image caption تیس ایرانی خواتین نے ان انتخابات کے لیے خود کو بطور امیدوار رجسٹر کروایا تھا

ایران کی شورئ نگہبان نے چودہ جون کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں خواتین کے حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

شوریٰ کے ایک رکن محمد یزیدی کا کہنا ہے کہ ایران کا آئین خواتین کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ صدارتی الیکشن میں حصہ لیں۔

شورئ نگہبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی اقدار کے مطابق انتخابی امیدواروں کی چھانٹی کرے۔

تیس ایرانی خواتین نے ان انتخابات کے لیے خود کو بطور امیدوار رجسٹر کروایا تھا تاہم اس کی امید کم ہی تھی کہ انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت ملے گی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے آئین میں خواتین کے صدارتی امیدوار بننے کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا گیا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق محمد یزیدی نے کہا کہ ’قانون خواتین کو اجازت نہیں دیتا‘ اور خواتین کا نام بیلٹ پیپر پر نہیں آ سکتا۔

ایران میں خواتین کو پارلیمان کا رکن بننے کی اجازت ہے اور وہ قانون سازی میں بھی شریک ہو سکتی ہیں۔

ملک کے موجودہ صدر محمود احمدی نژاد آئینی پابندی کی وجہ سے تیسری مدت کے لیے صدر نہیں بن سکتے اور ان کے جگہ لینے کے لیے 686 امیدواروں نے خود کو رجسٹر کروایا ہے۔

صدارتی الیکشن کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست کا اعلان منگل کو کیا جائے گا۔

2009 میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں کل 475 امیدواروں نے رجسٹریشن کروائی تھی لیکن شورئ نگہبان نے صرف 4 کو الیکشن میں حصہ لینے کا اہل قرار دیا تھا۔

ایرانی اپوزیشن نے ان انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

.