یروشلم: فوج میں شمولیت پر یہودیوں کا احتجاج

Image caption فوجی بھرتی کے خلاف مظاہرہ میں تشدد پھوٹ پڑا جس سے کئی افراد زخمی ہو گئے

یروشلم میں ہزاروں کٹر قدامت پرست یہودیوں نے اپنی برادری کے ارکان کی اسرائیلی فوج میں شمولیت کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

بعض مظاہرین نے پولیس پر بوتلیں، پتھر اور دھوئیں کا ایک گرینیڈ پھینکا جس کے بعد کئی افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ جھڑپوں میں پولیس اور مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔

موجودہ اسرائیلی قانون کے مطابق اگر کٹر قدامت پرست یہودی مذہبی درس گاہوں میں زیرِ تعلیم ہوں تو وہ فوج میں بھرتی سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔

سیکولر یہودی اس استثنیٰ پر اعتراض کرتے ہیں اور انھیں بھرتی کرنے کا منصوبہ وضع کرنے پر کام ہو رہا ہے۔

اسرائیل میں 18 سال سے بڑی عمر کے افراد کے لیے فوج میں بھرتی لازمی ہے۔ مرد تین برسوں تک اور عورتیں دو برسوں تک فوج میں کام کرتی ہیں۔ تاہم بہت سے کٹر قدامت پرست یہودی اپنی بالغ عمر کا بیشتر حصہ مذہبی تعلیم میں گزارتے ہیں۔

جمعرات کی رات ہریدی یہودیوں کے مخصوص سیاہ کوٹ اور ٹوپی پہنے ہوئے پندرہ ہزار کے قریب مرد فوجی بھرتی مرکز کے قریب اکٹھے ہوئے۔ بعض تخمینوں میں مظاہرین کی تعداد کہیں زیادہ بتائی گئی ہے۔

یہ مظاہرہ دو کٹر قدامت پرست فرقوں کی طرف سے بلایا گیا تھا، جو بھرتی کے قانون میں کسی بھی ایسی تبدیلی کی مخالفت کرتے ہیں جس سے ان کے طلبہ کے لیے فوجی بھرتی لازمی ہو جائے۔

ربائی ڈیوڈ زائخرمین نے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’حکومت ہماری روایات کو جڑ سے اکھاڑنا اور ہمیں سیکولر بنانا چاہتی ہے۔ وہ اس (ملک) کو کٹھالی کہتی ہے (جہاں مختلف تہذیبیں پگھل کر ایک ہو جاتی ہیں)، مگر لوگوں کو نہیں پگھلایا جا سکتا۔‘

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہرین مناجاتیں پڑھ رہے تھے اور نعرے لگا رہے تھے ’تورات سب سے بلند!‘ اور ’فوج ہمارے طلبہ کو نہیں چھین سکتی!‘

اس دوران اس وقت تشدد پھوٹ پڑا جب بعض مظاہرین نے پولیس پر چیزیں پھینکیں اور کوڑے دانوں کو آگ لگا دی۔ ایک تصویر میں ایک پولیس اہلکار کو دکھایا گیا ہے جس کے چہرے سے خون بہہ رہا ہے، اور ایک ہریدی مرد کی ناک لہولہان ہے۔

اسرائیل میں جنوری میں ہونے والے عام انتخابات میں لازمی بھرتی سے استثنیٰ ایک اہم معاملہ تھا۔ مرکز اور سیکیولر جماعتوں نے ہریدی طلبہ کی فوجی بھرتی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان جماعتوں کو خاصی نشستیں ملیں اور انھوں نے حکومت میں شمولیت اختیار کر لی۔

کٹر قدامت پرست جماعتیں 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت ہی سے فوجی ملازمت سے مستثنیٰ ہیں۔ اس وقت وہ اسرائیلی آبادی کے دس فیصد پر مشتمل ہیں۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق اس وقت 37 ہزار کے قریب کٹر قدامت پرست مذہبی مدارس میں زیرِ تعلیم ہیں، اس لیے فوج میں بھرتی سے مستثنیٰ ہیں۔

گذشتہ برس اسرائیل کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ استثنیٰ غیر آئینی ہے۔ اس کے بعد سے ایک نئے قانون پر سوچ بچار کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں