فرانس: ہم جنس پرست شادی کی اجازت

Image caption فرانس میں عوام کی اکثریت ہم جنس پرست شادیوں کے حامی ہیں لیکن قدامت پرست اور مذہبی افراد اس کی مخالفت کرتے ہیں

فرانس کے صدر نے ایک نئے اور متنازع قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کی رو سے فرانس یورپ میں نواں اور دنیا میں چودھواں ایسا ملک بن گیا ہے جہاں ہم جنس پرست شادیاں قانونی قرار دے دی گئی ہیں۔

جمعے کے روز آئینی کونسل نے دائیں بازو کی جانب سے کیے جانے والے اعتراض کو مسترد کر دیا، جس سے صدر فرانسوا اولاند کی جانب سے قانون پر دستخط کی راہ ہموار ہو گئی۔

انھوں نے کہا، ’میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ اب جمہوریہ کے قانون پر عمل پیرا ہونے کا وقت ہے۔‘

قانون پر دستخط ہونے کے دس روز بعد پہلی ہم جنس پرست شادی منعقد کی جا سکتی ہے۔ البتہ پارلیمانی تعلقات کے وزیر الین وڈالیز نے فرنچ ٹی وی کو بتایا کہ پہلی تقریبات ’یکم جولائی سے قبل‘ منعقد کی جائیں گی۔

اولاند اور ان کی برسرِ اقتدار سوشلسٹ پارٹی نے ایک برس قبل اقتدار میں آنے کے بعد اس قانون کو اپنی سماجی اصلاحات کا حصہ بنایا تھا۔

ایک طویل و تلخ بحث کے بعد ہم جنس پرست شادیوں کے قانون کو فرانسیسی سینٹ اور قومی اسمبلی نے گذشتہ ماہ منظور کر لیا تھا۔

دائیں بازو کی مرکزی جماعت یو ایم پی کے سابق صدر نکولس سارکوزی نے جلد ہی اس قانون پر آئینی بنیادوں پر اعتراض اٹھایا۔ لیکن آئینی کونسل نے جمعے کو فیصلہ دیا کہ ہم جنس پرستانہ شادیاں ’کسی بھی آئینی اصول سے متصادم نہیں ہیں،‘ اور نہ ہی یہ ’بنیادی حقوق، آزادی یا قومی سالمیت کے لیے منافی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ گود لینے کے قانون میں بچے کی فلاح مقدم ہو گی اور کہا کہ ہم جنس جوڑوں کی طرف سے گود لینے کو قانونی حیثیت دینے کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے خودکارانہ طریقے سے بچہ گود لینے کا حق‘ بھی مل جائے گا۔

مزاحیہ اداکار فریجڈ بارجو ہم جنس پرست شادیوں کے خلاف مہم چلانے والوں میں پیش پیش رہی ہیں۔ انھوں نے اس فیصلے کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہم جاری رہے گی۔

جمعے کو بیسیوں مظاہرین نے پیرس میں احتجاج کیا۔ اس سے قبل اس قانون کی مخالفت میں لاکھوں افراد پر مبنی جلوس نکل چکے ہیں جو کبھی کبھار متشدد بھی ہو جاتے تھے۔

یو ایم پی جماعت کے صدر ژاں فرانسوا کوپے نے کہا کہ انھیں آئینی کونسل کے فیصلے پر افسوس ہے۔ پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما اروے میریوں نے کہا کہ پارٹی 2017 میں ایسی متبادل تجاویز لے کر آئے گی ’جو بچوں کے حقوق کا زیادہ احترام کرتی ہوں۔‘

ہم جنس پرستانہ شادیوں کی مخالف لابی کو کیتھولک چرچ اور قدامت پرست حزبِ اختلاف کی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون معاشرے کے بنیادی ڈھانچے کو زک پہنچاتا ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ 55 تا 60 فیصد فرانسیسی ہم جنس پرست شادیوں کے حق میں ہیں، لیکن ہم جنس پرست جوڑوں کی جانب سے بچوں کو گود لینے کے حق میں صرف 50 فیصد لوگ ہیں۔