سعودی خاتون کوہ پیما ایورسٹ کی بلندیوں پر

Image caption راحا محرک کی ٹیم نیپال میں تعلیم کے فروغ کے لیے 10 لاکھ ڈالر جمع کرنا چاہتی ہے

سعودی خاتون سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ 25 سالہ رہا محرق سعودی عرب کے ساتھ ساتھ عرب دنیا کی بھی کم عمر ترین کوہ پیما ہیں جہنوں نے ایورسٹ کی بلندیوں کو چھوا ہے۔

وہ چار کوہ پیماؤں کی ٹیم کے ساتھ سنیچر کو دنیا کی سب سے بلند پہاڑ کی چوٹی تک پہنچیں ہیں۔ رہا محرق کی چار رکنی ٹیم میں فلسطین اور قطر کے کوہ پیما بھی شامل تھے۔ قطر اور فلسطیین سے تعلق رکھنے والے کوہ پیماؤں نے بھی پہلی مرتبہ دنیا کی بلند ترین چوٹی کو سر کیا ہے۔

سعودی عرب کا شمار قدامت پسند معاشروں میں ہوتا ہے جہاں خواتین کے حقوق بہت محدود ہیں۔ جس ٹیم نے رہا محرق کی کوہِ پیمائی کو فلم بند کیا اُن کا کہنا ہے کہ رہا کو اپنے مقصد کے حصول میں حائل کئی روکاوٹوں کو عبور کرنا پڑا۔

رہا محرق کی ویب سائٹ پر ان کی تحریر کے مطابق ان کے خاندان کے لیے کوہِ پیمائی کی مہم کے لیے رضامند ہونا ایک چیلنج تھا لیکن وہ اب مکمل طور پر تعاون کر رہے ہیں۔

محرق کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتی ہیں کہ ان کی کامیابی سے دیگر سعودی خواتین کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

رہا محرق کا تعلق سعودی عرب کے شہر جدہ سے ہے لیکن وہ دوبئی کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔

ماونٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہے اور یہ 8,848 میٹر بلند ہے۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو ہے۔

اسی بارے میں