آسٹریلیا میں اونٹوں نے مچائی تباہی

اونٹ
Image caption آسٹریلیا میں ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ جنگلی اونٹ ہیں

آسٹریلیا اپنی جنگلی حیاتیات کے بارے میں کافی شہرت رکھتا ہے۔ اگر اسے کینگرو ، کوالا اور مختلف اقسام کے سانپوں اور مکڑیوں کا دیس کہا جاتا ہے، لیکن کم ہی لوگ جانتے ہوں گے کہ دنیا کے سب سے زیادہ اونٹ بھی یہیں ہیں۔

یہاں ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ جنگلی اونٹ موجود ہیں جو دور دراز کے سنسان علاقوں میں آوارہ گھومتے ہیں اور جن کی وجہ سے مختلف قسم کے مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔

اونٹ انیسویں صدی میں عرب، ہندوستان اور افغانستان سے آسٹریلیا لائے گئے تھے تاکہ ان سے غیر آباد علاقوں میں باربرداری کا کام لیا جا سکے۔ لیکن جب انجن کا استعمال عام ہو گیا تو ان کی ضرورت باقی نہیں رہی تو ان میں سے کئی ہزار کو یونہی آوارہ چھوڑ دیا گیا۔

ایسے علاقے میں جہاں قدرتی درندے نہ ہوں اور آبادی بھی بہت کم ہو وہاں اونٹوں کو پھلنے پھولنے کا کافی موقع ملا اور وہاں کے دشت و بیاباں پر ان کے زبردست اثرات نظر آتے ہیں۔

سیاح اور مصنف سائمن ریو کا اس بارے میں کہنا ہے: ’ان کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ بہت زیادہ پانی پیتے ہیں اور ایک ہی ہلے میں یہ کئی گیلن پانی پی جاتے ہیں اور پانی کے ذخیروں اور کھیتون کو یہ بے تحاشا کا نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ وہ پانی بھی پی جاتے ہیں جو یہاں کے آبائی جانوروں کے لیے ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اونٹ یہاں کے سنسان علاقوں کے حالات میں زندہ رہنے کے لیے مخصوص صلاحیت کے حامل ہیں۔ ’انھیں یہاں لانا وقتی عقل مندی تھی لیکن یہ طویل مدتی لحاظ سے تباہی ہے۔‘

آسٹریلیا کے شمالی خطے میں ایلس سپرنگ کے مغرب میں دس لاکھ ایکڑ کی ایک پٹی ہے جسے لنڈی سیورن چلاتی ہیں وہاں اونٹوں نے تباہی مچا رکھی ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’ہمارے بنیادی ڈھانچوں کو اونٹ بہت نقصان پہنچاتے ہیں اور باڑھ کو بھی وہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ وہ ٹینک، پمپ اور پائپ کو توڑ دیتے ہیں۔ وہ باڑھ کو توڑ دیتے ہیں جو کہ ہمارے لیے بہت تشویش کا باعث ہے۔‘

لیکن یہ تشویش صرف ان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جنگلی اونٹ آسٹریلیا کے دوسرے آبائی جانداروں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، ان کی خوراک کم کر دیتے ہیں اور ان کے قدرتی پناہ گاہوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’وہ اس علاقے میں ہر چیز پر قابض ہیں اور اگر وہ درخت کو تباہ کر دیتے ہیں اور ساری گھاس کھا جاتے ہیں تو یہاں کوئی کینگرو و نہیں ہوں گے، کوئی ایمو اور چھوٹی چڑیا نہیں ہوگی اور نہ کوئی رینگنے والا جانور ہوگا۔‘

سیورن اور ان کی ٹیم ہیلی کاپٹر سے ان اونٹوں کا شکار کرتی ہیں اور انہیں وہیں سڑنے کے لیے چھوڑ دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم خوشی سے ایسا نہیں کرتے بلکہ ہمیں مجبوراً یہ کرنا پڑتا ہے۔

Image caption اونٹ نے دوسرے جانوروں کی زندگی کو مشکل میں ڈال رکھا ہے

اونٹ آسٹریلیا کے 33 لاکھ مربع کلو میٹر کے رقبے میں آوارہ گھومتے ہیں اور ان میں مغربی، جنوبی اور شمالی آسٹریلیا کے ساتھ کوئینز لینڈ کا علاقہ بھی شامل ہے۔

انسانوں نے درجنوں قسم کے جانداروں سے آسٹریلیا کو روشناس کرایا ان میں جنگلی گھوڑے، خنزیر، بکریاں، کتے، بلیاں، خرگوش اور لومڑیاں شامل ہیں اور اب یہ یہاں کے حیاتی نظام کے لیے بڑے مسئلے بن گئے ہیں۔

2010 میں آسٹریلیائی حکومت نے ان پر قابو پانے کے لیے ان کو ذبح کرنے کا ایک منصوبہ بنایا تاکہ ان کی تعداد میں خاطر خواہ کمی کی جاسکے۔

2001 سے 2008 کے دوران ایک اندازے کے مطابق سنسان علاقوں میں دس لاکھ اونٹ تھے جن میں سے ہزاروں کو اس پراجیکٹ کے تحت فروخت کرنے کے لیے اور ذبح کرنے کے لیے درجہ بندی کے حساب سے علیٰحدہ کیا گیا۔

تاہم جانوروں کے لیے کام کرنے والی تنظیم اینیملز آسٹریلیا نے اسے ’قتل عام‘ سے تعبیر کیا۔

آر ایس پی سی اے کا کہنا ہے ہے کہ ان جنگلی اونٹ کے مینجمنٹ کے لیے قومی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور ان سے چھٹکارے کے لیے سب سے کم آزار والے طریقوں کا استعمال کیا جائے۔

لیکن بہت سے کسانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے اور انہیں جو سمجھ میں آتا ہے وہ کرتے ہیں۔ چراگاہوں کے نقصان کے ساتھ ان جنگلی اونٹوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ ایک کروڑ آسٹریلوی ڈالر لگایا گیا ہے۔

ریو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’ہم جیسے بہت سے لوگوں کے لیے ان کا ہلاک کیا جانا دردناک زیاں ہے لیکن ہمارے پاس کوئی چارہ بھی تو نہیں۔‘

ایلس سپرنگ کے پاس ہی ایان کونوے 1800 مربع کلومیٹر کا جانوروں کا رینچ چلاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان جانوروں کی تعداد میں دوسرے طریقوں سے کمی لائی جا سکتی ہے

کونوے جیسے لوگوں کا خیال ہے کہ انھیں گوشت کے لیے فروخت کیا جانا چاہیے ان کے خیال میں بڑے گوشت اور اونٹ کے گوشت میں زیادہ فرق نہیں ہوتا۔

اونٹ ایک دن میں 40 میل سفر کر سکتا ہے اور اسے زیادہ تر مشرق وسطیٰ کے ممالک کو فروخت کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب کے لوگ اونٹوں کے شوقین ہوتے ہیں لیکن کونوے کا کہنا ہے کہ ’وہ خاص قسم کے اونٹوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں