نائجیریا: عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری

Image caption فوج نائجیریا کے ہر حصے کو باغیوں سے پاک کرنے تک آپریشن جاری رکھے گی: بریگیڈیئر جنرل اولوکولادے

نائجیریا کی فوج نے کہا ہے کہ ملک کے شمال مشرق میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک بنیادی مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔

بریگیڈیئر جنرل کرس اولوکولادے نے بی بی سی کو بتایا کہ اس آپریشن کا مقصد نائجیریا کی بطور ملک جغرافیائی سالمیت کو بحال رکھنا ہے۔

اس سے قبل مایدوغوری شہر میں 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ فوج نے کہا ہے کہ اس نے اس شہر میں 65 ’دہشت گردوں‘ کو گرفتار کیا ہے۔

مایدوغوری اسلامی عسکریت پسند جماعت بوکو حرام کا اہم مرکز رہا ہے۔

اس سے قبل نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن نے عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے پے در پے حملوں کے بعد ملک کی تین شمال مشرقی ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی۔

نائجیریا کے فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل اولوکولادے نے کہا کہ فوج ’نائجیریا کے ہر حصے کو باغیوں سے پاک کرنے تک آپریشن جاری رکھے گی۔‘

انھوں نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام نیوز آور کو بتایا کہ کارروائی کرنے والی فوج کو معلوم ہے کہ اس کا ہدف کہاں ہے، اور اس مشن کی تیاری میں خاصا وقت صرف ہوا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا، ’ہم اس کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے اڈوں، نقل و حمل کے ذرائع، اور اسلحے کو ہدف بنا رہے ہیں۔‘

اس سے قبل ایک فوجی بیان میں ریاست بورنو کے صدر مقام مایدوغوری کے 12 علاقوں کی نشان دہی کی گئی تھی جو اب مستقل کرفیو کی زد میں رہے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جن علاقوں کی نشان دہی کی گئی ہے وہاں بوکو حرام کے اڈے ہیں۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ فوجی گاڑیوں کو شہر میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس نے 65 ایسے باغیوں کو گرفتار کر لیا ہے جو مایدوغوری میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

تاہم اس بات کی کوئی غیرجانب دارانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

فوج کا کہنا ہے کہ جمعے کو مایدوغوری میں فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں دس مشتبہ باغیوں کو ہلاک کر دیا گیا اور ان سے آر پی جی سمیت دوسرا اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔

اسی بارے میں