’مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف تعصب میں اضافہ‘

Image caption برما میں روہنگیا مسلمانوں کو مسلسل تشدد کے واقعات کا سامنا ہے: رپورٹ

امریکی محکمۂ خارجہ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں یہودیوں اور مسلمانوں کے خلاف تعصب میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یورپ اور ایشیا میں اسلام مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایران، مصر اور وینزویلا میں منفی جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے منفی رویے کے خاتمے کے لیے آئرا فورمین کو خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے۔

جان کیری کے مطابق امریکہ کا اپنا ریکارڈ بھی کوئی مثالی نہیں ہے لیکن مذہبی آزادی ایک عالمی خوبی ہے۔

’ کسی کا اپنے عقیدے کے بارے میں کھل کا اعلان کرنا اور اس پر عمل کرنے کی آزادی، یقین کرنا یا نہ کرنا، کسی کا اپنے عقیدے کو تبدیل کرنا ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔ ‘

’میں تمام ممالک اور خاص کر جن کا اس رپورٹ میں ذکر ہے ان پر زور دیتا ہوں کہ وہ اس بنیادی آزادی کی تحفظ کے لیے اب اقدامات کریں۔‘

وزیر خارجہ جان کیری کے مطابق توہین مذہب کے قوانین میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس میں اکثر اوقات اختلاف رائے رکھنے والوں کو دبایا جاتا ہے ہے یا ان قوانین کو ذاتی دشمنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ ’بین الاقوامی مذہبی آزادی‘ پیر کو جاری کی گئی ہے اور اس میں مصر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں میڈیا میں منفی جذبات جس میں جس بعض اوقات ہولو کاسٹ کی نفی یا ہیرو کے طور پر پیش کرنے جیسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

مصر میں ایک واقعہ کی مثال دی گئی ہے جب صدر مرسی نے ایک مذہبی رہنما کی جانب سے’ یہودیوں اور ان کے حامیوں کو تباہ‘ کرنے کی دعا پر آمین کہا تھا۔

اسی طرح سے وینزویلا میں حکومتی کنٹرول میں میڈیا نے کیتھولک فرقے سے تعلق رکھنے والے صدارتی امیدوار کے یہودی آباؤ اجداد سمیت کئی منفی جذبات پر مبنی خبریں شائع کی گئیں۔

اس کے علاوہ ایران میں حکومت اکثر اوقات یہودیت کی مذمت کرتی ہے۔

رپورٹ میں بیلجیم کا ذکر بھی کیا گیا ہے جہاں مسلمانوں کو نئی پابندیوں کا سامنا ہے اس میں کلاس رومز میں نقاب پہننے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

بھارت کے شہر منگلور کے سکولوں میں سکارف لینے پر پابندی لگائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس کے علاوہ برما میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد اور تعصب کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت جاری کی گئی ہے جب برما کے صدر وائٹ ہاؤس میں صدر اوباما سے ملاقات کر رہے تھے۔

رپورٹ میں مسلمان ممالک میں مسلم اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

پاکستان میں شیعہ اور احمدی برادری کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور بحرین میں سنی مسلمانوں کے علاوہ دیگر مسلمانوں کو تعصب کا سامنا ہے جبکہ ایران میں سنی مسلمانوں کو ہراساں اور گرفتار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ پاکستان میں ذہنی طور پر مفلوج ایک عیسائی لڑکی کا ذکر کیا گیا ہے جس کو توہین مذہب کے الزام میں تقریباً ایک ماہ تک قید رکھا گیا اور اس کے بعد اندرونی اور بیرونی مذمت کے بعد رہا کر دیا۔

اس کے علاوہ روس میں اقلیتی مذہبی گروپوں کے ممبران کے خلاف سخت الزامات عائد کیے گئے تاکہ ان کو منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچنے سے روکا جا سکے۔ سوڈان سے ملنے والی مصدقہ رپورٹس کے مطابق وہاں حکام نے گرجا گھروں کو مسمار کر دیا۔

اسی بارے میں