اوکلاہوما:ملبے سے متاثرین کی تلاش جاری

  • 21 مئ 2013

امریکہ کے شہر اوکلاہوما سٹی کے مضافات میں پیر کو آنے والے طوفانِ بادوباراں کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور امدادی کارکن تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

پیر کو آنے والے اس طوفانی بگولے سے سب سے زیادہ نقصان شہر کے جنوب میں مور نامی علاقے میں ہوا جہاں پینتالیس منٹ کے عرصے میں 320 کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے محلے کے محلے تباہ کر دیے اور عمارتیں اکھاڑ کر رکھ دیں۔

امریکہ میں بگولے سے تباہی: تصاویر میں

اوکلاہوما کے میڈیکل ایگزامنر نے اس واقعے میں 24 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اس سے قبل سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 51 بتائی گئی تھی جبکہ مقامی ذرائع نے مزید 40 لاشیں ملنے کی خبر دی تھی۔

چیف میڈیکل افسر کے دفتر کی چیف ایڈمنسٹریٹو افسر ایمی ایلیٹ کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس ایک اچھی خبر ہے اور وہ یہ کہ ہلاکتوں کی تعداد چوبیس ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے قبل 51 ہلاکتوں کی خبر آنے کی وجہ مرنے والے افراد کی موت کی کئی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات تھیں۔‘

حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر 20 بچوں کی ہلاکت کی خبر بھی دی گئی تھی تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ اس تعداد میں کوئی کمی بیشی ہوئی ہے یا نہیں۔

طوفان کے بعد علاقے کے ہسپتالوں میں 120 زخمیوں کو لایا گیا ہے اور خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اوکلاہوما کو بڑی تباہی سے متاثرہ علاقہ قرار دیا ہے۔

Image caption بگولے کی زد میں آ کر درجنوں گاڑیاں اور ٹرک بھی تباہ ہو گئے

مور میں موجود بی بی سی کے جونی ڈائمونڈ کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن پناہ گاہوں، تہہ خانوں اور ملبے میں دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں پیر کی رات بھر جاری رہیں اور ملبہ اٹھانے کے لیے بھاری مشینری استعمال کی جاتی رہی۔

اس امدادی آپریشن میں مدد دینے کے لیے اوکلاہوما نیشنل گارڈز کے 200 ارکان کو طلب کیا گیا جو دیگر ریاستوں سے آنے والے اہلکاروں کی مدد سے کارروائی میں مصروف ہیں۔

علاقے کا پلازا ٹاورز ایلیمنٹری سکول طوفان کی براہِ راست زد میں آیا، جس نے سکول کی چھت اکھاڑ دی اور دیواریں گرا دیں۔

اوکلاہوما کے لیفٹیننٹ گورنر ٹاڈ لیمب نے بی بی سی کو بتایا، ’اب بھی دو درجن کے لگ بھگ بچے گم ہیں۔ سکول سے چند لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ یہ سب کچھ بہت لرزہ خیز اور تباہ کن ہے۔‘

مقامی میڈیا کے مطابق سکول میں بچے پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو ملبے سے باہر نکالنے کے لیے امدادی آپریشن جاری ہے۔ علاقے کے ایک اور سکول کو بھی نقصان پہنچا ہے، جہاں دیکھا گیا کہ اساتذہ بچوں کو سکول سے نکال کر محفوظ جگہوں کی طرف لے جا رہے ہیں۔

اوکلاہوما کی گورنر میری فیلن نے کہا کہ یہ ایک الم ناک دن ہے اور ان والدین کے لیے ’ہمارے دل شکستہ ہیں جو اپنے بچوں کو تلاش کر رہے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ صدر براک اوباما نے فون کر مدد کی پیش کش کی ہے اور کہا کہ ہے اگر انھیں مدد کی ضرورت ہو تو وہ براہِ راست ان سے بات کر سکتی ہیں۔

Image caption 320 کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے محلے کے محلے تباہ کر دیے اور عمارتیں اکھاڑ کر رکھ دیں۔

بگولے کی زد میں آ کر درجنوں گاڑیاں اور ٹرک بھی تباہ ہو گئے ہیں۔اس کے علاوہ ایک ریڈیو سٹیشن بھی بگولے کی لپیٹ میں آیا ہے۔

ایک عینی شاہد ملیسا نیوٹن نے بتایا، ’ہمارا محلہ کاٹھ کباڑ سے اٹ گیا ہے۔ ہمارا صحن سیمنٹ اور لکڑی کے ٹکڑوں سے بھرا پڑا ہے۔ بعض گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔‘

اوکلاہوما میں بگولے سے تباہی کے بعد اب تک ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہیں جبکہ ریاست کی گورنر نے سولہ کاؤنٹیوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی تھی تاکہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں جلد از جلد بحالی کا عمل شروع ہو سکے۔

امریکہ کے محکمۂ موسمیات نے بگولے کے بارے میں لوگوں کو پہلے خبردار کر دیا تھا اور اس کے ساتھ ہدایت کی تھی کہ محفوظ پناہ گاہوں میں چلے جائیں۔

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ طاقت کے لحاظ سے ای ایف 4 درجے کا بگولا تھا جو کہ فوجیتا سکیل پر دوسرا طاقتور ترین درجہ ہے۔

مور شہر ماضی میں بھی بگولوں کا نشانہ بن چکا ہے اور مئی 1999 میں یہاں آنے والے ایک طوفان کے دوران روئے زمین پر تیز ترین ہوائیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔

اسی بارے میں