افغانستان کو ہتھیاروں سے زیادہ پاکستانی تعاون درکار

افغان صدر حامد کرزئی کے دورۂ بھارت سے قبل افغان حکام نے کہا ہے کہ بھارتی حکام سے بات چیت کا اہم موضوع ملک کے دفاعی معاملات میں بھارتی تعاون میں اضافہ ہوگا۔

صدر کرزئی کے ترجمان ایمل فیضی کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سکیورٹی، فوجی اداروں اور سویلین ایجنسیوں کی مضبوطی اور پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پیش آنے والے حالیہ واقعات بھارتی رہنماؤں سے بات چیت کے اہم موضوعات ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’افغانستان بھارت کے ساتھ کیےگئے سکیورٹی معاہدے کے تحت فوج کی ضروریات پوری کرنے اور سکیورٹی ایجنسیوں کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت سے تعاون طلب کرےگا۔‘

افغان صدر کی نئی دہلی آمد سے قبل، بھارت میں افغان سفیر شیدا ابدالی نے کہا ہے کہ افغانستان بھارت کے ساتھ زیادہ دفاعی تعاون چاہتا ہے۔

لیکن انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک چاہتا ہے کہ افغانستان اور بھارت کے مابین تعاون زیادہ ہو کیونکہ ان کے کہنے کے مطابق "بھارت 2001 میں افغانستان میں نہیں آیا تھا اور 2014 کے بعد بھی افغانستان کو نہیں چھوڑےگا.‘

افغانستان میں بھارت کی سرگرمیاں

امریکہ افغانستان میں بھارت کا مزید اقتصادی، سیاسی اور یہاں تک کہ فوجی تعاون کے لیے تیار ہے، لیکن یہ تعاون افغانستان کے لیے اتنا فائدہ مند نہیں جتنا کہ اس سے پاکستان کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

افغانستان میں بھارتی سرگرمیوں پر صرف پاکستان ہی معترض نہیں بلکہ امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے بھی وزارت کا عہدہ سنھبالنے سے پہلے کہا تھا کہ ’بھارت اپنے پرانے دشمن پاکستان کے خلاف افغانستان کو ایک فرنٹ کے طور پر استعمال کرتا ہے‘۔

بعض لوگوں کی رائے ہے کہ افغانستان صرف القاعدہ اور طالبان کے خلاف امریکہ اور نیٹو کی جنگ کا میدان نہیں ہے، بلکہ پاکستان اور بھارت کی ایک پراکسی جنگ کا میدان بھی ہے.

شاید اقتصادی اور سیاسی طور پر مستحکم افغانستان کا وجود بھارت کے لیے ایک اولین ترجیح ہو، لیکن کچھ ماہرین کا سوال یہ ہے کہ افغانستان سے بین الاقوامی اتحاد کی افواج کے انخلا کے بعد بھارت کے کون سے قومی مفادات متاثر ہوں گے۔

دوست اور بھائی کے درمیان انتخاب

صدر حامد کرزئی کا بھارت کا دورہ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب کہ اسلام آباد میں جلد ہی نواز شریف کی قیادت میں نئی حکومت اقتدار سنبھالنے والی ہے۔

ماضی میں، پاکستان نے بار بار افغانستان کو فوجی بشمول افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت کی امداد کے لیے پیشکش کی ہے لیکن افغانستان نے اس پیشکش میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی اور پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ہونے والے حالیہ جھڑپوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات پہلے ہی دباؤ میں ہیں۔

ماضی میں صدر کرزئی نے کوشش کی ہے کہ بھارتی رہنماؤں سے ان کی ملاقاتوں سے پاکستان پریشان نہ ہو۔

بھارت کے ساتھ سٹریٹجک معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد افغان صدر نے کہا تھا کہ ’پاکستان ہمارا جڑواں بھائی ہے اور بھارت ایک عظیم دوست، ایک عظیم دوست کے ساتھ جو معاہدے پر دستخط کیے ہیں، وہ ہمارے بھائی کو متاثر نہیں کرے گا‘۔

لیکن پاکستان نے کبھی بھارت اور افغانستان کی قربت پر اپنے خدشات کو نہیں چھپایا اور کچھ معاملوں میں واضح طور پر کابل کو نئی دہلی سے دور رہنے کا مشورہ بھی دیا۔

ہندی اسلحہ یا پاکستانی ڈپلومیسی

بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی کے دورہ بھارت کی شاید پہلے سے تیاری کی گئی ہو گی لیکن یہ دورہ پاکستان کے نئے رہنماؤں کے لیے خیرمقدمی پیغام نہیں لایا ہے۔

پاکستان میں مقیم لاکھوں افغان مہاجرین، پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے افغان حکومت کے خلاف باغی گروپوں پر اثر و رسوخ، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کے کردار، افغانستان کی مارکیٹ کے لیے پاکستان کے اہم اقتصادی راستے اور آخر کار ملک سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کے استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانا ایسے عناصر ہیں کہ افغانستان ان کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان جس ملک کے ساتھ چاہے اپنے سٹریٹجک تعلقات قائم کر سکتا ہے۔ یہ بات اصولی طور پر صحیح ہے لیکن عملی طور پر اور خصوصاً 2014 کے بعد اسے ہندوستان کے ہتھیاروں سے پاکستان کے سیاسی تعاون کی زیادہ ضرورت ہے۔

اسی بارے میں