افغان مترجموں کو برطانوی ویزے دینے کا فیصلہ

Image caption برطانوی افواج افغانستان میں نیٹو فورسز میں شامل ہیں

افغانستان میں برطانوی فوجیوں کے ساتھ کام کرنے والے کوئی چھ سو افغان مترجموں کو برطانیہ آنے کا حق مل گیا ہے۔ یہ اجازت نامہ اٰن برطانوی وزراء کی ناکامی ہے جو انھیں برطانیہ آنے کا حق دینے کے بہت مخا لف تھے، ان کا کہنا تھا کہ عراق میں کام کرنے والے مترجموں کے طرز پر افغان مترجموں کو برطانیہ میں رہنے کے اجازت نامے جاری نہ کیے جائیں۔

افغانستان میں محاذ جنگ پر برطانوی فوجیوں کے ساتھ کام کرنے والے کوئی چھ سو مترجموں کو ابتدا میں پانچ برس قیام کے ویزے جاری کیے جائیں گے۔

تاہم اس بارے میں تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ ترجمہ کی سہولت فراہم کرنے والے بہت سے افغان کارکن اس سہولت سے محروم رہیں گے۔

لندن میں وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق مترجموں کو دی جانے والی پیشکش اس انتخاب کا موقع دیا جائیگا کہ وہ افغانستان میں ہی اپنا کام جاری رکھیں یا برطانیہ آکر ایک نئی ابتدا کریں۔

اس پیشکش کی تفصیلات آئیندہ ماہ تک جاری ہونگیں، اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ شائد بہت سے مترجم اس پیش کش سے محروم رہیں گے۔

تین مترجموں کی نمائیندگی کرنے والی روزا کرلنگ کہنا ہے کہ ’انھیں خوشی ہے کہ فوجیوں کے لیے ترجمہ کرنے والے افغانوں کی بہادری کا اعتراف کرلیا گیا ہے،۔

تاہم انھوں نے تشویش ظاہر کی کہ اگر صرف محاذ جنگ پر کام کرنے والوں کو ترجیع دی گئی اور دوہزار بارہ اور دو ہزار چودہ کے درمیان ملازمت اختیار کرنے والوں کو اس سکیم میں شامل نہ کیا گیا، تو بہت سے مترجم اس سہولت سے مستفید نہیں ہوسکیں گے۔

انھوں نے کہا اس صورت میں اس پالیسی کی افادیت کم ہو جائیگی۔

ایک مترجم عبدل کا کہنا تھا کہ انھیں نے اس کام کے لیے اپنی زندگی کی پروا نہیں کی، انھیں خوشی ہے کہ برطانوی حکومت نے اٰن کی قربانیوں کا اعتراف کر لیا ہے۔

تاہم افغانوں کے لیے ویزے کے حصول کے لیے کام کرنے والے ’آواز‘ نامی گروپ کا کہنا ہے کہ مترجموں کو سیاسی پناہ دینے کی پیشکش بہت ہی محدود ہے۔ اس گروپ نے اپنی مہم کے دوران حکومت پر دباؤ ڈالنے کی درخواست پر تراسی ہزار افراد سے دستخط کروائے۔

اس سے پہلے گزشتہ ماہ بر طانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نہ کہا تھا کہ باصلاحیت افغان مترجموں کی اپنے ملک میں رہنے کی حوصلہ افزائی کی جائیگی، جس کے لیے انھیں کھلے دل سے مالی اعانت فراہم کی جائیگی۔

لیبر پارٹی کی شیڈو وزیر نے اس پالیسی کا خیر مقدم کیا ہے۔

اسی بارے میں