’مشائی کی نااہلی پر رہبرِ اعلیٰ سے بات کروں گا‘

Image caption اسفندیار رحیم مشائی محمود احمدی نژاد کے خاصے قریب تصور کیے جاتے ہیں

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ وہ شورئ نگہبان کی جانب سے صدارتی انتخاب کے لیے اپنے حمایت یافتہ امیدوار اسفندیار رحیم مشائی کی نااہلی پر رہبرِ اعلیٰ سے بات چیت کریں گے۔

محمود احمدی نژاد آئینی پابندی کی وجہ سے تیسری مدت کے لیے ملک کے صدر نہیں بن سکتے اور ان کے جگہ لینے کے لیے آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی الیکشن کے لیے 686 امیدواروں نے خود کو رجسٹر کروایا تھا۔

تاہم امیدواروں کی اہلیت کا فیصلہ کرنے والی شورئ نگہبان نے اس فہرست کی جانچ پڑتال کے بعد صرف آٹھ امیدواروں کو انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے اور اسفندیار رحیم مشائی کے علاوہ سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کا نام بھی امیدواروں کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔

بارہ رکنی شورئ نگہبان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسلامی اقدار کے مطابق انتخابی امیدواروں کی چھانٹی کرے اور اس کے ممبران کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تمام سخت گیر قدامت پسند ہیں۔یہ شورئ نگہبان ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی حامی سمجھی جاتی ہے۔

بدھ کو صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ’میرے خیال میں رہبر(علی خامنہ ای) کو ان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور میں آخری وقت تک اس معاملے پر ان سے بات کرتا رہوں گا۔‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ شورئ نگہبان کے ترجمان نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’انتخابی قوانین میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جس کے تحت امیدوار اپیل کا حق رکھتے ہوں‘۔

Image caption 686 صدارتی امیدواروں نے خود کو رجسٹر کروایا تھا جن میں آٹھ منتخب ہوئے

ادھر ہاشمی رفسنجانی کی صدارتی مہم کے انچارج کا کہنا ہے کہ وہ نااہلی کو چیلینج کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ رفسنجانی 1989 سے 1997 کے دوران ایران کے صدر رہ چکے ہیں وہ گزشتہ انتخابات کے دوران نظربند تھے۔ اس بار ان کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا وہ اصلاح پسند اور معتدل سیاست دانوں کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔

شورئ نگہبان نے جن آٹھ صدارتی امیداروں کی منظوری دی ہے ان میں ایران کے جوہری پروگرام کے عالمی مذاکرات کار سعید جلیلی، سابق جوہری مذاکرات کار حسن روحانی، سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی اور تہران کے میئر محمد باقر قالین باف شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایران کے طاقتور پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی، پارلیمان کے سابق سپیکر غلام علی حداد عادل بھی امیدواروں میں شامل ہیں۔ سابق وزیر برائے ٹیکنالوجی اور نائب صدر محمد رضا عارف بھی امیدوار ہیں جنہیں واحد اصلاح پسند کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ چند روز پہلے ہی شورئ نگہبان نے صدارتی انتخاب میں خواتین کے حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

2009 میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں کل 475 امیدواروں نے رجسٹریشن کروائی تھی لیکن شورئ نگہبان نے صرف 4 کو الیکشن میں حصہ لینے کا اہل قرار دیا تھا۔

ایرانی اپوزیشن نے ان انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں