سینیٹ کے پینل سے مہاجرین کا قانون منظور

Image caption تارکین ِ وطن کے قانون کوگزشتہ نصف دہائی میں امریکہ کی مہاجرین کے لیے پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کو شہریت دینے کا قانون سینٹ کے پینل نے منظور کر لیا ہے۔ جس کے بعد لاکھوں تارکینِ وطن کو قانونی حثیثت دینے کے اس قانون کو منظوری کے لیے ایوان میں بھیجا جائے گا۔ ۔

آئندہ ماہ ہونے والے سینیٹ کے اجلاس میں قانون پر بحث ہو گی۔

سینیٹ کے پینل کے تیرہ اراکین نے ہم جنس پرستوں کے ساتھیوں کی مستقل قانونی حثیثت ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ پانچ نے مخالفت کی۔کمیٹی میں شامل ڈیموکریٹس جماعت کے اراکین کے علاوہ ریپلکن جماعت کے تین اراکین نے بھی اس قانون کی حمایت کی ہے۔

سینیٹ کی کمیٹی نے چین اور بھارت جیسے ممالک سے ہنرمند افراد کے لیے ویزا کی شرائط میں نرمی کے اقدامات پر بھی رضامندی کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکہ اور میکسکو کی سرحد پر سکیورٹی بڑھانے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

امریکہ میں ایک بااثر گروہ AFL-CIO کے صدر رچ تریمکا نے ہنر مند اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو ویزہ فراہم کرنے کی شرط کو’ مزدور مخالف ‘قرار دیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ مزدور تنظیمیں قانون کی حمایت کریں گی۔

امریکی صدر براک اوباما نے سینیٹ کے پینل کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون’ اصلاحات کے بینادی اصولوں پر مبنی ہے جس کے ذریعے ہم مہاجرین کے نظام میں موجودہ چیلنجز پر قابو گے‘۔ انھوں نے کہا کہ وہ پْر اُمید ہیں کہ قانون میں ترامیم سے بہتری آئے گی۔

سینیٹ میں ریپبلکن جماعت کے سربراہ میکونل کہتے ہیں کہ وہ ایوان میں قانون کے حمایت نہیں کریں گے لیکن ایوان میں رائے شماری کے حوالے سے انھوں نے اپنی حکمتِ عملی واضح نہیں کی ہے۔

تارکین ِ وطن کے قانون کو گزشتہ نصف دہائی میں امریکہ کی مہاجرین کے لیے پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

2007 میں امریکی سینٹ میں تارکینِ وطن کے لیے قانون سازی ناکام ہو گئی تھی۔

امریکی مہاجرین کے ترامیمی قانون کی منظوری سے امریکہ میں مقیم ایک کروڑ سے زیادہ غیرقانونی تارکینِ وطن کو مخصوص شرائط کے تحت قانونی حثیثت حاصل ہو جائے گی۔ اس قانون کے تحت امریکی شہریت کے لیے تیرہ سال پر مبنی مراحل طے کرنے کے بجائے ایک دن میں گرین کارڈ کی لیے درخواست دی جا سکے گی۔

امریکہ کی ریپبلکن جماعت نے مہاجرین کی اصلاحات کا خیر مقدم کیا ہے۔ گزشتہ سال صدرارتی انتخابات میں امریکہ میں مقیم ہسپانوی آبادی نے صدر اوباما کو ووٹ دیا تھا۔

اسی بارے میں