رفسنجانی کی ایرانی رہنماؤں پر تنقید

Image caption ہاشمی رفسنجانی سنہ 1989 سے لیکر سنہ 1997 تک ایران کے صدر رہے ہیں

ایران کی حزبِ مخالف کی ایک ویب سائٹ پر جاری ہونے والی خبروں کے مطابق سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے ملک کے سیاسی رہنماؤں پر نااہلی اور لاعلمی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

سابق صدر کا یہ بیان ایران کے آئینی ادارے شورئ نگہبان کے اس فیصلے کے دو روز بعد سامنے آیا ہے جس میں ہاشمی رفسنجابی اور ایک دوسرے امید وار کو آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ایرانی ویب سائٹ ’کالیمے‘ کے مطابق رفسنجانی کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال نہیں کہ ملک اس سے برے طریقے سے چلایا جا سکتا ہے‘۔

انہوں نے کہا ’میں ان کی مبالغہ آمیز معلومات کی اشاعت اور حملوں کو روکنا نہیں چاہتا تاہم ان کی کم علمی مجھے تکلیف دے رہی ہے، وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟‘۔

ایران کی شورئ نگہبان نے جون میں ہونے والے صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے آٹھ امیدواروں کی منظوری دی ہے اور جن امیدواروں کی منظوری دی گئی ہے ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تمام امیدوار قدامت پسند ہیں۔

ایرانی شورئ نگہبان ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی خیر خواہ سمجھی جاتی ہے۔

ہاشمی رفسنجانی سنہ 1989 سے لیکر سنہ 1997 تک ایران کے صدر رہے ہیں، انھوں نے آخری لمحات میں صدارتی دوڑ میں ملک کے اصلاح پسند امیدوار کی حیثیت سے شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اصلاح پسند بن جانے والے انقلابی رہنما رفسنجانی ایرانی انقلاب کے بانیوں میں سے ایک ایسے رہنما ہیں، جنھوں نے مسلسل آٹھ برس تک عراق کی جانب سے تھوپی جانے والی جنگ کو سہا، اور اس کوختم کروانے کے بعد ملک میں از سر نو تعمیری پروگرام شروع کیا۔

ہاشمی رفسنجانی کی انتخابی مہم کے مینیجر نے بدھ کو اعلان کیا کہ 78 سالہ رہنما اپنی نااہلی کا مقابلہ نہیں کریں گے۔

اس سے پہلے ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا تھا کہ وہ شورئ نگہبان کی جانب سے صدارتی انتخاب کے لیے اپنے حمایت یافتہ امیدوار اسفندیار رحیم مشائی کی نااہلی پر رہبرِ اعلیٰ سے بات چیت کریں گے۔

اسی بارے میں