’یہ برطانیہ پر حملہ ہی نہیں اسلام سے غداری بھی ہے‘

  • 23 مئ 2013
Image caption وولچ میں جو کچھ ہوا اس نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے:ڈیوڈ کیمرون

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے لندن کے علاقے وولچ میں برطانوی فوجی کے قتل کو برطانوی طرزِ زندگی پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان قاتلوں نے اپنے مذہب کو بھی دھوکہ دیا ہے۔

انہوں نے یہ بات اس واقعے پر برطانوی حکومت کی قومی سلامتی کی کمیٹی ’کوبرا‘ کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہی ہے۔

دریں اثناء قتل ہونے والے فوجی کا نام ظاہر کر دیا گیا ہے۔ فوجی کا نام لی رگبے ہے اور وہ رائل رجمنٹ آف فیوزلیرز کی دوسری بٹالین میں تعینات تھے۔

پچیس سالہ لی رگبےکا تعلق مانچسٹر سے تھا اور ان کا ایک دو سالہ بیٹا ہے۔ فوج میں ان کی ڈیوٹی ڈرمر اور مشین گنر کی تھی اور افغانستان، جرمنی اور قبرص میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ برطانیہ دہشتگردی کو شکست دے گا اور انتہاپسندی کے زہریلے پیغام کا مقابلہ کرے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حملے کی ذمہ داری صرف اور صرف ان دو افراد پر عائد کی جا سکتی ہے جنہوں نے یہ عمل سرانجام دیا۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وولچ میں جو کچھ ہوا اس نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ’یہ صرف برطانیہ پر حملہ نہیں تھا بلکہ اسلام سے بھی غداری تھی۔‘

Image caption لندن میں قتل ہونے والے فوجی لی رگبے کا ایک دو سالہ بیٹا ہے

اس اجلاس سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لندن کے میئر بورس جونسن نے کہا تھا کہ ’میں یہاں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ مذہب اسلام کو اس ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرانا بالکل غلط ہوگا لیکن ساتھ ہی اس قتل اور برطانوی خارجہ پالیسی یا بیرونِ ملک آزادی کے تحفظ کے لیے سرگرم برطانوی فوجیوں کے اقدامات میں تعلق قائم کرنا بھی صحیح نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’خرابی مکمل طور پر یہ عمل سرانجام دینے والے لوگوں کی بیمار اور گمراہ ذہنیت میں ہے اور ہلاک ہونے والے شخص اور اس کی اہلخانہ کے لیے انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جانا ضروری ہے۔‘

برطانیہ میں مسلمانوں کی تنظیم ’دی مسلم کونسل آف بریٹن‘ نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسلام میں اس طرح کے قتل کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

ادھر برطانیہ میں وہائٹ ہال کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کو لندن کے جنوب مشرقی حصے میں دو حملہ آوروں نے جس شخص کو خنجر اور ٹوکے کے وار کر کے ہلاک کیا، اس کا تعلق برطانوی فوج سے تھا جبکہ برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس واقعے کے تناظر میں جنوبی لندن میں ایک مکان پر چھاپا مارا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس مکان سے چار افراد کو تفتیش کے لیے لے جایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے مشرقی قصبے لنکن کے قریبی گاؤں میں بھی ایک مکان کی تلاشی لی ہے۔

بی بی سی کو ذرائع نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں میں سے ایک کا نام مائیکل ادیبولاجو ہے اور اس 28 سالہ حملہ آور نے 2001 میں اسلام قبول کیا تھا۔

جن دو حملہ آوروں نے اس مذکورہ برطانوی فوجی پر حملہ کیا تھا ان پر پولیس نے بھی فائرنگ کی جس میں وہ دونوں زخمی ہوگئے تھے۔ اس میں سے ایک حملہ آور کی حالت نازک ہے لیکن دونوں کا ہسپتال میں علاج ہورہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق متاثرہ شخص کو دو افراد نے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے چاقو سے کاٹ کر ہلاک کیا۔ حملے کے بعد فرار ہونے کے بجائے دونوں حملہ آور اپنی تصویر لینے پر اکساتے رہے۔

موقع پر جمع ہونے والے افراد نے ایک حملہ آور کی ویڈیو بنائي تھی جس میں اسے کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ چونکہ برطانوی فوجی ہر روز مسلمانوں کو مارتے ہیں اس لیے اس نے یہ حملہ کیا ہے۔

فوٹیج میں ایک حملہ آور کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ’ کیا آپ کو لگتا ہے کہ سیاست داں مریں گے؟ نہیں، آپ جیسے عام آدمی اور آپ کے بچے۔ تو ان سے چھٹکارا حاصل کریں۔ ان کو بتا دیں کہ وہ اپنے فوجیوں کو واپس بلا لیں تاکہ آپ سب امن و سکون سے رہ سکیں۔‘

اس دوران لندن اور اس کے آس پاس کے تمام فوجی چھاؤنیوں کی سکیورٹی میں حفاظاتی بندوبست سخت کر دیےگئے ہیں۔

ادھر اس واقعے کے رد عمل میں مساجد پر حملے کے واقعات پیش آئے ہیں اور اس سلسلے میں پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔

بریٹینی ایسیکس میں واقع ایک مسجد میں چاقو لیکر داخل ہونے اور آگ لگانے کی کوشش کرنے کے الزام میں ایک تینتالیس برس کے شخص کو گرفتار کیا گيا ہے۔

گلینگھم میں ایک دوسرے شخص کو نسلی جرائم کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

اسی بارے میں