بحرین میں ہزاروں افراد کا احتجاجی دھرنا

بحرین
Image caption مذہبی رہنما کے مکان پر چھاپہ مارے جانے کے خلاف شیعہ آبادی میں شدید غصہ پایا جاتا ہے: حزب اختلاف

خلیجی ملک بحرین میں حکام کی جانب سے سینیئر ترین مذہبی رہنما کے مکان پر چھاپہ مارنے کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی دھرنا دیا ہے۔

مذہبی رہنما شیخ عیسیٰ قاسم کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تھا اور اس کارروائی کے خلاف ریاست میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت الوفاق نے احتجاجی دھرنے کی کال دی تھی۔

شیخ عیسیٰ قاسم بحرین کے سب سے اعلیٰ مذہبی رہنما ہیں اور اس واقعے کے خلاف شیعہ آبادی میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

الوفاق پارٹی کے اعلیٰ رہنما جاسم حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شیخ عیسیٰ قاسم کے مکان پر چھاپے نے شیعہ برادری کو انتہائی ناراض کیا ہے۔

’ان کے بہت زیادہ پیروکار ہیں۔لوگوں کو یہ سن کر صدمہ ہوا کہ سکیورٹی فورسز نے ریاست کے سب سے اعلیٰ مذہبی رہنما کے مکان پر رات ایک بجے چھاپہ مارا‘۔

جس وقت شیخ عیسیٰ کے مکان پر چھاپہ مارا گیا اس وقت وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مکان سے دستاویز برآمد ہوئی ہیں تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

جمعہ کو احتجاجی دھرنا دیراز میں شیخ قاسم مسجد کے سامنے دیا گیا اور ایک مبصر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں ہے۔

الوفاق جماعت نے پرامن مظاہرے کا اعلان کیا تھا اور ابھی تک کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

بحرین میں شیعہ اکثریت سنّی حکمرانوں سے ملک میں جمہوری اصلاحات اور شیعوں کے لیے مزید حقوق کا مطالبہ کر رہی ہے۔

بحرین میں شیعہ مسلمانوں نے تیونس اور مصر میں حکومت مخالف احتجاج سے متاثر ہو حکومت مخالف مظاہرے شروع کیے تھے۔

چودہ فروری سنہ دو ہزار گیارہ کو پرامن مظاہرین نے ملک کے علامتی چوک پرل پر قبضہ کر لیا تھا۔ تین بعد سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کر کے اس جگہ کو مظاہرین سے خالی کروایا لیا تھا۔

اس کے بعد بھی احتجاجی مظاہرے جا رہے اور حکومت نے درجنوں افراد کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف عدالتی کارروائی جاری ہے جبکہ زیرحراست افراد سے تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران انسانی حقوق کی خلاف وزریاں کی گئی تھیں۔

اسی بارے میں