مالی سے فرانسیسی فوج کا انخلا

فرانسیسی کانوائے
Image caption اس سے قبل اپریل میں فرانس کے چار ہزار فوجی فرانس واپسی گئی تھی

مالی میں چار ماہ قبل اسلام پسند باغیوں کو پسپا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرنے کے بعد اب فرانس کی فوج نے مالی انخلا کا آغاز کر دیا ہے۔

مالی سے واپسی کے لیے دارالحکومت بماکو سے باہر موجود فرانس کے ایک فوجی اڈے سے 80 گا‌ڑیوں کا ایک قافلہ جنوب کی جانب آئیوری کوسٹ کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔

فرانس نے اپریل سے ہی مالی سے انخلا کا عمل شروع کر دیا تھا جب اس کے کوئی چار ہزار فوجی مالی سے واپس ہوئے تھے۔

فرانس کا منصوبہ ہے کہ وہ مالی سے اپنی فوج بتدریج واپس بلائے گا اور جولائی سے قبل ملک کو مالی کی فوج اور اقوام متحدہ کی امن فوج کے حوالے کردے گا۔

واضح رہے کہ جولائی میں مالی میں قومی انتخابات ہونے ہیں۔

سنیچر کو ہونے والی واپسی مالی کے پڑوسی ملک نائجر میں فرانس کی نگرانی میں چلائی جانے والی یورینیم کی کان پر حملے کے دو دن بعد عمل میں آ رہی ہے جس میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ادھر جمعہ کو فرانس کی سپیشل فورس نے نائجر کی فوج کواغواکاروں کے حصار کو ختم کرنے میں تعاون فراہم کیا تھا۔

اسلامی شدت پسندوں نے شمالی مالی کے بڑے حصے پر قبصہ کرکے وہاں سخت گیر شریعت کا نظام نافذ کیا تھا۔

یاد رہے کہ فرانس نے ملک کے جنوب کی طرف دارالحکومت بماکو کی جانب باغیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے مالی میں گیارہ جنوری کو فوجی مداخلت کی تھی۔

باغیوں نے مارچ 2012 میں کمزور مرکزی حکومت کا فائدہ اٹھاتےہوئے اس کا تختہ پلٹ دیا تھا اور گاؤ، ٹمبکٹو اور کدال جیسے شہروں پر قبضہ کرکے وہاں سخت اسلامی نظام نافذ کر دیا تھا اور مالی کی فوج ان سے وہ علاقے واپس لینے میں ناکام رہی تھی۔

Image caption مالی میں فرانسیسی فوجی کافی مقبول رہے

بہر حال فرانس کی مداخلت کے کچھ ہفتے بعد ہی شہری علاقوں سے باغیوں کا صفایا ہو گيا جبکہ کچھ باغی پہاڑوں اور ریگستانوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے جہاں سے وہ اکا دکا حملے کیا کرتے تھے۔

دارالحکومت بماکو سے بی بی سی کے نمائندے ایلکس ڈوول سمتھ کا کہنا ہے کہ فرانس کی مداخلت کافی مقبول رہی اور بہت سے مالی باشندے ان کی واپسی کے منصوبے سے خوفزدہ ہیں۔

بماکو سے عابد جان کی جانب روانہ ہونے والا فرانسیسی فوجی قافلہ کافی بڑا ہے لیکن فرانس کا کہنا ہے کہ اس میں صرف ضرورت سے زیادہ سازوسامان ہے جنہیں واپس بھیجا جا رہا ہے۔

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ ٹینک اور نگرانی کرنے والی بڑی گاڑیاں مالی کے شمالی علاقوں میں فی الحال تعینات رہیں گی۔

ابھی بھی فرانس کی 3،800 فوج اس کی اپنی سابقہ کالونی میں موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ستمبر تک یہ تعداد کم ہوکر دو ہزار رہ جائے گی جبکہ سال کے اخیر تک ان کے صرف ایک ہزار فوجی مالی میں رہ جائیں گے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی کثیر جہتی استحکام عطا کرنے والے مشن کے تحت 11،200 فوجی اور 1،440 پولیس اہلکار وہاں تعینات رہیں گے۔ اس فوج کا کہنا ہے کہ وہ مالی میں استحکام بحال کرنے میں تعاون فراہم کرے گی اور ’مالی مسلح فوج کو از سر نو تیار کرے گی۔‘

گزشتہ ہفتے مالی کی مکمل طور پر از سر نو بحالی کے لیے برسلس میں بین الاقوامی ڈونر کانفرنس میں مالی حکومت کو تعاون کے لیے چار ارب امریکی ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں