بشارالاسد کی فتح کے لیے سرگرم رہیں گے:حزب اللہ

Image caption اگر سنّی اسلام پسند شام پر غالب آگئے تو یہ لبنان کے شیعوں، سنیوں اور عیسائیوں سب کے لیے ایک خطرہ ہوگا: حسن نصر اللہ

لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ ان کے جنگجو شام کی خانہ جنگی میں صدر بشارالاسد کی فتح کے لیے سرگرم عمل رہیں گے۔

ادھر لبنان کے درالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے میں راکٹ گرنے سے کم از کم تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

لبنانی حکام کے مطابق دو راکٹ اسلامی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کی زیرِ اثر علاقے میں گرے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ راکٹ جس جانب سے داغے گئے اور اس کارروائی میں کون ملوث ہے۔

نامعلوم مقام سے ٹی وی کے ذریعے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے حسن نصر اللہ نے کہا تھا کہ اس جنگ میں لبنان کے مفادات بھی داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جنگ ہماری ہے اور میں آپ سے فتح کا وعدہ کرتا ہوں۔‘

حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ اگر سنّی اسلام پسند شام پر غالب آگئے تو یہ لبنان کے شیعوں، سنیوں اور عیسائیوں سب کے لیے ایک خطرہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی تحریک شامی باغیوں کا ساتھ نہیں دے سکتی جو ان کی نظر میں امریکہ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شامی قصبے قصیر میں 19 مئی سے شروع ہونے والی حکومتی کارروائی میں حزب اللہ کے درجنوں جنگجو شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔

Image caption قصیر کی تازہ لڑائی میں حزب اللہ کے 18 جنگجوؤں سمیت 22 افراد ہلاک ہوئے ہیں

گزشتہ ہفتے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ حزب اللہ کے ہزاروں جنگجو شام میں جاری تشدد میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایران پر حزب اللہ کے اس کردار کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا تھا جسے ایران نے رد کر دیا تھا۔

ادھر لبنان کی سرحد کے قریب واقع شامی قصبے قصیر میں شامی باغیوں کا کہنا ہے کہ انہیں حزب اللہ کے جنگجوؤں کی جانب سے شدید گولہ باری کا سامنا ہے۔

شام کے سرحدی قصبے قصیر میں دونوں اطراف سے شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں اور فوج کا کہنا ہے کہ اس نے باغیوں کے علاقے پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے تین اطراف سے حملہ کیا ہے۔

قصیر میں ایک ہفتے سے جاری لڑائی میں تیزی سنیچر کو آئی۔ لڑائی میں سرگرم افراد کا کہنا ہے کہ علاقے پر میزائلوں سمیت بھاری ہتھیاروں سے بمباری کی گئی جبکہ فضائی حملے بھی ہوئے۔

حزبِ مخالف کے سرگرم رکن مالک آمر نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ’جب سے لڑائی شروع ہوئی ہے میں نے ایسا دن نہیں دیکھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ گھر گھر جا کر شہر تباہ کر دیں گے۔‘

شام میں انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم کا کہنا ہے قصیر کی تازہ لڑائی میں حزب اللہ کے 18 جنگجوؤں سمیت 22 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں