مصری خاکوں کی برحرمتی، چینی والدین کی معذرت

Image caption چین کے نو عمر لڑکے کی قدیم مصری عبادت گاہوں پر تحریر کندہ کرنے کے اقدام کی انٹرنیٹ صارفین نے بھر پور مذمت کی ہے

چین کے نو عمر لڑکے کی قدیم مصری عبادت گاہوں پر تحریر کندہ کرنے کے اقدام کی انٹرنیٹ صارفین نے بھر پور مذمت کی ہے۔ جس کے بعد اُس کے والدین نے معذرت کر لی ہے۔

جمعے کو مائیکرو بلاگر نے مصر میں الاقصر کے ایک خاکے کی تصویر شائع کی جس پر لکھا ہوا ہے کہ ڈنگ جنہو یہاں تھا۔

مصر میں دریائے نیل کے کنارے الاقصر قدیمی عبادت گاہوں کا مرکز ہے۔ یہ عبادت گاہیں 3500 سال پرانی ہیں۔

رپورٹ کے مطانق انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ناراض صارفین نے ڈنگ کو تاریخ پیدائش اور سکول کے ذریعے ڈھونڈ نکالا۔پرائمری سکول کی ویب سائٹ ہیک کر کے ڈنگ کی شناخت کی گئی ہے۔

ڈنگ کی والدہ نے مقامی اخبار کو بتایا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے اس اقدام پر معذرت خواہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم پر بہت دباؤ ہے اس لیے ہم ’ مصری عوام اور چین کے اُن تمام لوگوں سے معذرت خواہ ہیں جنہوں نے اس واقعے پر دھیان دیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ان کا بیٹا کم عمر ہے اور پرائمری سکول کا طالبِ علم ہے۔ اُیسے اب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے۔ ڈنگ جنہو کے والد نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو معاف کر دیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ اس (ڈنگ) کے لیے دباؤ بہت زیادہ ہے‘

چین کی عوام نے سیاحت پر 102 ارب ڈالر خرچ کیے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں چالیس فیصد زائد ہے۔

سیاحت کے لیے اقوامِ متحدہ کی تنظیم کا کہنا ہے کہ سیاحت کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن میں چین کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں