افغان شہریوں پر حملے کے مجرم کا اقرارِ جرم

Image caption سارجنٹ بیلز پر 16 افغانوں کو قتل کرنے کا الزام ہے

وہ امریکی فوجی سزائے موت سے بچنے کی خاطر جرم قبول کر لے گا جس پر الزام ہے کہ اس نے گذشتہ برس دو حملوں میں 16 افغان شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

یہ بات سٹاف سارجنٹ رابرٹ بیلز کے وکیلوں نے بتائی ہے۔

وہ پانچ جون کو مقدمے کی سماعت کے دوران اعترافِ جرم کریں گے۔

ہلاک ہونے والے افغانوں کے رشتے داروں نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ اس بات سے برہم ہیں کہ بیلز ممکنہ طور پر سزائے موت سے بچ جائیں گے۔

محمد وزیر کی خاندان کے 11 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں ان کی ماں اور دو سالہ بچی بھی شامل تھی۔ ان کا کہنا ہے، ’اس کے بدلے میں ہم ایک سو امریکی فوجیوں کو ہلاک کریں گے۔‘

اس واقعے میں سعید جان کی بیوی اور تین دوسرے رشتے دار ہلاک ہوئے تھے۔ انھوں نے اے پی کو بتایا: ’قید کی سزا بالکل بے کار ہے۔ میں جانتا ہوں میرے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔ لیکن اگر میرے پاس طاقت آ جائے اور اگر اس کو پھانسی پر نہ لٹکایا گیا تو میں اپنا انتقام خود لوں گا۔‘

سارجنٹ بیلز کے وکیلوں نے کہا کہ وہ ان ہلاکتوں پر پشیمان ہیں، تاہم انھوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ سماعت کے دوران جج کو مزید کیا بتائیں گے۔

وکیل جان ہنری براؤن نے کہا کہ حملے کی رات سارجنٹ بیلز ’جنونی‘ اور ’دل شکستہ‘ تھے۔

بیلم کی جانب سے رحم کی کسی بھی درخواست کو جج اور بیس کمانڈر لیوس میک کورڈ دونوں کومنظور کرنا ہو گا۔ ایک فوجی جیوری اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ سارجنٹ بیلز کی سزا میں پیرول کا امکان ہو گا یا نہیں۔

حملے کے وقت بیلز نے شراب پی رکھی ہوئی تھی اور وہ خواب آور دوا ویلیم کے زیرِ اثر تھے۔

اس واقعے میں ہلاک ہونے والے 16 افغانوں کے ساتھ چھ افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ ان میں سے 17 عورتیں اور بچے تھے۔ ان میں سے اکثر کو سر پر گولی ماری گئی تھی۔ بعض لاشوں کو ڈھیر لگا کر جلا دیا گیا تھا۔

سارجنٹ بیلز کے وکلائے دفاع نے کہا ہے کہ انھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اس بات کا دعویٰ نہیں کریں گے کہ بیلز پاگل ہیں۔

استغاثہ نے شروع میں کہا تھا کہ وہ بیلز کو سزائے موت دلوانے کی کوشش کریں گے۔ تاہم گذشتہ 50 سالوں میں کسی امریکی فوجی کو سزائے موت نہیں دی گئی۔

اسی بارے میں