’قیدی افغان حکام کے حوالے کر سکتے ہیں‘

ہلمند
Image caption افغانستان کے صوبہ ہلمند میں برطانیہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے

برطانیہ کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں نوے کے قریب زیرحراست افغان مزاحمت کاروں کو افغان حکام کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

برطانوی وزارتِ دفاع نےافغانستان کے صوبے ہلمند میں برطانوی فوج کے کیمپ میں اسّی سے نوے افغان شہریوں کو حراست میں رکھنے کا اعتراف کیا ہے۔

برطانوی وزراتِ دفاع نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ زیرحراست افغان شہریوں کو افغان حکام کے حوالے کرنے کے لیے’ایک محفوظ راستے کا تعین‘ کیا گیا ہے۔

’جب پالیسی اور قانونی تقاضے پورے ہوں گے تو منتقلی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی سمت طے کی جائے گی‘۔

وزارتِ دفاع کی جانب سے ان اقدامات کا اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بی بی سی کو حاصل ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوا تھا کہ افغانستان میں کم از کم پچاسی افغان مزاحمت کار وہاں تعینات برطانوی فوج کی حراست میں ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ان میں بہت سے افغانیوں کو چودہ ماہ تک حراست میں رکھا گیا تھا۔

ان میں سے آٹھ افغان شہریوں کے برطانوی وکلاء نے کہا ہے کہ ان کے مؤکلوں میں سے بعض کو تو چودہ ماہ تک خفیہ فوجی مرکز کے اندر بغیر کسی الزام کے قید رکھا گیا ہے اور حراست میں رکھنا مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب جبکہ لوگوں کو گوانتوناموبے کے بارے میں معلوم ہے وہ برطانیہ کی عدالتِ عالیہ سے اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کو رہائی دلوائے۔

انھوں نے لندن کے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے کہ عدالت فیصلہ کرے کہ کیا یہ حراست قانونی اور جائز ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ دفاع فلپ ہمنڈ کا کہنا ہے کہ کہ اقوامِ متحدہ کے قوانین کے تحت بین الاقوامی افواج کو حاصل اختیارات کے تحت ان افراد کو حراست میں رکھنا جائز ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سے حراست میں لیے گئے افراد پر برطانوی فوجیوں کے قتل اور بمباری میں حصہ لینے کا شک ہے۔

اس سے قبل وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ اس کے پاس کسی کو حراست میں رکھنے کی نہ تو اجازت ہے اور نہ ہی اس کے پاس اس کی سہولت ہے۔

لیکن برطانیہ ان کو افغان حکام کے حوالے بھی نہیں کر سکا کیونکہ برطانوی وزیر دفاع نے مشتبہ افراد کو افغان حکام کے حوالے کرنے پر اس خدشے کے تحت پابندی عائد کر دی تھی کہ وہ ان سے برا سلوک کریں گے۔

واضح رہے کہ صوبہ ہلمند میں قائم کیمپ بیسچیئن افغانستان میں برطانیہ کا سب سے بڑا فوجی مرکز ہے جہاں کم از کم تیس ہزار فوجی تعینات ہیں۔

افغانستان میں برطانوی افواج بین الاقوامی سکیورٹی فورس (ایساف) کا حصہ اور اسے شک کی بنیاد پر کسی شخص کو 96 گھنٹوں تک حراست میں رکھنے کی اجازت ہے تاہم ’غیر معمولی حالات‘ میں جیسے کسی کی جان بچانے کے لیے اہم معلومات حاصل کرنی ہو تو اسے کسی شخص کو زیادہ دیر تک بھی حراست میں رکھنے کی اجازت ہے۔

اسی بارے میں