برما کی شان ریاست میں فسادات

برما شان ریاست (فائل فوٹو)
Image caption برما میں نسلی فسادات نے حالیہ دنوں میں شدید شکل اختیار کر لی ہے

برما کی شمال مشرقی ریاست شان کے دارالحکومت لیشیؤ میں مسلمانوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں مسلمانوں کی ایک مسجد کو جلائے جانے کی اطلاع ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب یہ خبر پھیلی کہ پٹرول سٹیشن پر ایک مسلمان نے ایک بودھ مذہب کی ماننے والی خاتون کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی ہے۔

اس واقعے میں شامل خاتون کو ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں برما میں نسلی فسادات اور تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس علاقے کے رہائشی افراد کا کہنا ہے کہ جس شخص پر بدھ خاتون کو نذر آتش کرنے کا الزام تھا اسے حراست میں لے لیا گيا لیکن وہاں جمع ہحوم نے انہیں لوگوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر نا شروع کر دیا۔

اس کے بعد جب پولیس نے اس شخص کو مشتعل ہجوم کے حوالے کرنے سے انکار کیا تو انہوں نے مبینہ طور پر ایک مسجد اور ایک مسلمان کی دکان کو آگ لگا دی۔

شہریوں کے مطابق حکومت نے اس کے بعد شہر میں کرفیو نافذ کر دیا۔

ایک سرکاری اہلکارنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ شہر میں کئی جگہ آگ بجھا دی گئی ہے اور حالات قابو میں ہیں۔

Image caption بہت سے روہنگیا مسلمان عارضی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں

مارچ میں اسی طرح کے فرقہ وارانہ تشدد میں 43 افراد مارے گئے تھے جن میں بیشتر مسلمان تھے۔ یہ فسادات میئکتیلا شہر میں ایک مسلمان سنار کی دوکان میں ہونے والی ایک بحث سے شروع ہوئے تھے جو بعد میں دوسرے شہروں تک پھیل گئے تھے۔

گزشتہ مہینے دکان کے مالک اور ديگر نو مسلمانوں کو فسادات بھڑکانے کے لیے جیل کی سزا ہوئی ہے لیکن ابھی تک کسی بھی بدھ مت کے پیروکار کو میئکتیلا فسادات میں جرم کا مرتکب قرار نہیں دیا گيا ہے۔

بی بی سی کو برما سے گزشتہ دنوں ملنے والی ویڈیو فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ برما کی پولیس خاموش تماشائی بن کر بدھ بلوائیوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر حملے اور ان کے قتل کو دیکھ رہی ہے۔اس ویڈیو میں ایک مسلمان سُنار کی دکان پر بدھ بلوائی حملہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اسی طرح گزشتہ سال رخائن میں ہونے والے نسلی فسادات میں 200 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے تھے۔

رخائن میں ہونے والے فسادات بدھ مت کے ماننے والے اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان تھے جنہیں برمی شہری کے طور پر تسلیم نہیں کيا جاتا ہے۔

فسادات کی وجہ سے دونوں فرقے ایک دوسرے سے علیحدہ رہتے ہیں اور بہت سے روہنگیا مسلمان عارضی خیموں اور کیمپوں میں پناہ گزین ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل پر حکومت کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق روہنگیا دنیا کی سب سے زیادہ ستائی جانے والی قوموں میں سے ایک ہیں۔

اسی بارے میں