شام میں غیرملکی جنگجوؤں کی مذمت

Image caption شام میں مبینہ طور پر دونوں طرف سے غیرملکی جنگ جو لڑ رہے ہیں

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل نے شامی فوج کی طرف سے قصیر کے قصبے پر حملے اور جنگ میں خارجی جنگجوؤں کی شمولیت کی مذمت کی ہے۔

اس قرارداد کے حق میں 36 اور مخالفت میں ایک ووٹ آیا، جب کہ آٹھ ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

شام کے اہم پشت پناہ روس نے اس قرارداد کو ’نفرت انگیز‘ قرار دیا، تاہم وہ اس سال کونسل کا ووٹنگ رکن نہیں ہے۔

لبنان سے تعلق رکھنے والی شیعہ تحریک حزب اللہ شامی حکومت کی حمایت کرتی ہے اور اطلاعات کے مطابق اس کے جنگ جو قصیر کی لڑائی میں شامل تھے۔

کونسل نے قصیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

صرف وینزویلا نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ دو مندوبین غیر حاضر تھے۔

قرارداد کا مسودہ قطر نے ترکی اور امریکہ کی مدد سے تحریر کیا تھا۔ اس میں اقوامِ متحدہ کے امدادی اداروں کو شام میں فوری رسائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ قطر حکومت مخالف جنگ جوؤں کی حمایت کر رہا ہے جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

رائے شماری سے پہلے اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نوی پلے نے غیر ملکی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ شریکِ جنگ دھڑوں کو ہتھیار فراہم کر کے ان کی ’حوصلہ افزائی‘ نہ کریں۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا، ’ہم سب کی جانب سے ایک ہی پیغام جانا چاہیے: ہم اس جنگ کی اسلحے، بارود، سیاست یا مذہب کے ذریعے حمایت نہیں کریں گے۔‘

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے اس سے قبل روسی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ یہ قرارداد شام میں دو سال سے جاری تنازعے کو ختم کرنے کے لیے جون میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس بلانے کے لیے مشترکہ کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا، ’اس مقصد کے لیے ہر ایک کو خلوص سے کام کرنا پڑے گا، اور دہرے معیارات سے پرہیز کرنا ہو گا۔‘

قصیر میں کئی دنوں سے سخت لڑائی جاری ہے، اور سرکاری فوج سے وہاں سے باغیوں کو نکال باہر کرنے کے لیے سخت حملے شروع کر رکھے ہیں۔

بدھ کو شامی سرکاری میڈیا نے خبر دی تھی کہ انھوں نے قصیر میں ایک اہم فضائی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قصیر باغیوں کے لیے اہم دفاعی گزرگاہ ہے، جہاں سے لبنان سے جنگ جو اور باغی درآمد کیے جا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں