’قاتل روبوٹوں‘ پر اقوام متحدہ میں بحث

قاتل روبوٹ
Image caption قاتل روبوٹ کی تیاری امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل مل کر کر رہے ہیں

جینوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے اجلاس میں مبینہ قاتل روبوٹس پر بحث کی جائے گی۔

اجلاس میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں قاتل روبوٹس کے استعمال پر اس وقت تک پابندی لگائی جانے کی بات کہی گئی ہے جب تک اس سے متعلقہ اخلاقیات پر بحث نہیں ہو جاتی۔

یہ روبوٹ مشینیں ہیں اور انہیں پہلے سے ہی اس بات کے لیے پروگرام یا تیار کیا گیا ہے کہ وہ انسان یا اپنے ہدف سے کس طرح نبرد آزما ہوں اور ڈرون کے برعکس یہ جنگی محاذ پر ازخود کام کرتے ہیں۔

انہیں امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل مل کر تیار کر رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کا استعمال شروع نہیں کیا گیا ہے۔

اس کے حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے تکنیکی طور پر ’خطرناک خودمختار روبوٹ‘ کے طور پر یہ روبوٹ جان بچانے اور میدان جنگ میں فوجیوں کی تعداد کم کرنے میں معاون ہوں گے۔

جینیوا میں بی بی سی کی نمائندہ ایموگن فوکس کا کہنا ہے کہ اس کے برعکس انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے متعلق یہ سنگین اخلاقی سوالات پیدا کرتے ہیں۔

ان کے خدشات کے مطابق مارنے کا حتمی فیصلہ کون کرتا ہے؟ کیا ایک روبوٹ واقعی ایک شہری اور ایک فوجی میں تمیز کر سکتا ہے؟

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی جنگ میں شہریوں کی ہلاکت زیادہ ہوتی ہیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

ان کی دلیل ہے کہ جنگی جرائم کے لیے تو کسی روبوٹ پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا؟

روبوٹ کے استعمال کی جانچ کرنے والے اقوام متحدہ کے اہلکار کرسٹوف ہینز کا کہنا ہے کہ ’روایتی تصور تو یہ ہے کہ ایک جنگجو ہے اور ایک ہتھیار ہے لیکن اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہتھیار ہی جنگجو بن جاتا ہے اور ہتھیار خود فیصلہ کرتا ہے۔‘

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ذریعے ایسے روبوٹ تیار کرنے کو روکنے کا مطالبہ ہے اور مکمل طور پر پابندی لگانے کا مطالبہ نہیں ہے جو انسانی حقوق کی تنظیمیں چاہتی ہیں تاہم اس کے ذریعے ان سوالوں کے جواب کو تلاش کرنے کا موقع ملے گا جو اس کے متعلق اٹھائے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں