’شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مزید واقعات‘

شام کیمیائی اسلحہ
Image caption شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال پر عالمی برادری کو تشویش ہے

اقوامِ متحدہ میں برطانوی سفیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون کو ایک خط میں شام میں مزید کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے بارے میں اطلاعات فراہم کی ہیں۔

اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر مارک لیال گرانٹ نے بدھ کو بتایا کہ ہم شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے بارے میں اطلاعات سے بان گی مون اور اقوام متحدہ کی کیمائی ہتھیاروں کی جانچ کرنے والی ٹیم کے سربراہ کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’ہم سیکرٹری جنرل اور اکی سیلسٹروم کو اس بابت ملنے والی اطلاعات سے فوری طور پر آگاہ کرتے ہیں۔‘ وہ اقوامِ متحدہ کے کیمیائی ہتھاروں کے سربراہ اکی سیلسٹروم کی طرف اشارے کر رہے تھے۔

برطانیہ کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس خط کا مقصد بان گی مون کی توجہ کیمیائی اسلحے کے مزید تین مبینہ الزامات کی طرف مبذول کرانا ہے تاکہ اقوام متحدہ کی جانچ میں ان کو بھی شامل کیا جائے۔

وزارت خارجہ نے بتایا کہ یہ مبینہ واقعات اسی سال مارچ اور اپریل کے مہینوں میں سامنے آئے تھے اور میڈیا میں ان پر خبریں شائع ہوئی تھیں۔

ایک بیان میں برطانوی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’برطانیہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے جاری استعمال کے الزامات پر کافی تشویش رکھتا ہے۔‘

اس سے قبل شام کی حکومت نے 19 مارچ کو حلب کے ایک گاؤں خان الاصل میں کیمیائی اسلحے کے مبینہ استعمال کے معاملے میں بانگی مون کو تحقیقات کی اجازت دی تھی لیکن تحقیقات کو اسی واقعے تک محدود رکھنے کی شرط رکھی تھی۔

دوسری جانب بانگی مون کیمیائی اسلحے پر وسیع پیمانے پر تحقیقات کے خواہشمند ہیں کیونکہ برطانیہ اور فرانس نے حمس میں ایسے ہی واقعات کی اطلاع دی تھی۔

اقوام متحدہ نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کے بعد اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم قائم کی اور سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے کیمیائی اسلحے کے ماہر اکی سیلسٹروم کو اس کا رہنما مقرر کیا ہے لیکن شام نے ان کی ٹیم کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے سفیر رابرٹ سیری نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ شام میں تشدد میں اضافے کے دوران کیمیائي ہتھیاروں کے استعمال کی خبروں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

Image caption شام میں حکومت پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام ہے

انھوں نے اس بابت مزید تفصیل نہیں دی لیکن کہا کہ سیکرٹری جنرل کیمیائی اسلحے کے مبینہ استعمال پر کافی سنجیدہ ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر سوسان رائس نے کہا کہ امریکی ماہرین نے اس بارے میں اقوام متحدہ کی ٹیم کو دو بار بتایا ہے اور وہ اس بابت مزید معلومات فراہم کرتے رہیں گے۔

اقوام متحدہ کے ایک سینيئر سفیر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ بان گی مون کو کیمیائی ہتھیار کے مبینہ استعمال کے بارے میں نئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ لیکن معاملے کی نزاکت کے پیشِ نظر انھوں نے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر دو سال سے جاری شامی جنگ میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ثابت ہو جاتا ہے تو اس پر بین الاقوامی رد عمل میں اضافہ ہو جائے گا۔

اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق اس جنگ میں ابھی تک 70 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں