اسرائیلی فضائی حملے کا جواب دیں گے: بشارالاسد

بشار الاسد
Image caption بشار الاسد نے کہا ہے کہ گولان پر ایک نیا محاذ کھولنے کے لیے ان پر عوامی دباؤ رہا ہے

شام کے صدر بشارالاسد نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ شام مستقبل میں اسرائیل کے کسی بھی فضائی حملے کا جواب دیں گے۔

لبنان کے ایک ٹی وی چینل سے انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا کہ ان پراسرائیل کے خلاف محاذ کھولنے کے لیے بڑا ’عوامی دباؤ‘ ہے۔

انھوں نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ شام نے اعلیٰ قسم کے روسی دفاعی نظام کی پہلی کھیپ حاصل کر لی ہے۔

حزب اللہ سے منسلک المنار ٹی وی سے بات کرتے ہوئے صدر بشارالاسد نے خبردار کیا کہ ’ہم نے تمام فریقین کو جنھوں نے ہم سے بات کی ہے بتا دیا ہے کہ اگلی بار ہم کسی بھی اسرائیلی جارحیت کا جواب دیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’گولان میں ایک نیا محاذ کھولنے کا ہم پر بڑا عوامی دباؤ ہے۔‘

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد سے گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس نے سنہ 1981 میں اس علاقے کو اپنی عمل داری میں شامل کرلیا جسے عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔

حال ہی میں شام کی جانب سے اسرائیلی علاقوں میں میزائیل گرے تھے تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا سرحدی علاقے میں باغیوں کو ہی نشانہ بنایا گیا تھا۔ بہر حال اسرائیل نے جوابی فائرنگ کی تھی۔

شام اور اسرائیل سنہ 1948 سے حالتِ جنگ میں ہے لیکن حالیہ دنوں میں سرحد پر قدرے خاموشی ہے۔

انٹرویو نشر ہونے سے قبل المنار سے جاری کیے جانے والے اقتسابات کے مطابق بشار الاسد نے روس سے ایس-300 میزائیل کے حصول کی بات کی تھی لیکن انٹرویو مین انھوں نے بس اتنا کہا کہ ’روس سے ہمارے جو معاہدے ہوئے ہیں ان پر عمل درآمد ہوگا اور ان میں سے بھی حال میں کچھ پر عمل درآمد ہوا ہے۔ ہم اور روس ان معاہدوں پر عمل درآمد جاری رکھیں گے۔‘

یہ میزائل ایک بہترین فضائی دفاعی نظام مہیا کرتے ہیں جن کی مدد سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل داغے جاتے ہیں جو جنگی جہاز گرا سکتے ہیں اور بیلاسٹک میزائل بھی روک سکتے ہیں۔

صدر بشار الاسد نے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ اگر پہلے سے کوئی ناقابلِ قبول شرط نہیں رہی تو شام ’اصولاً‘ امریکہ اور روس کی حمایت سے کی جانے والی کانفرنس میں حصہ لے گا۔

بشار الاسد کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ایک ڈاکٹر نے شام کے اہم سٹریٹیجک شہر القصیر میں جاری خوفناک جنگ کے نتیجے میں وہاں ہونے والی تباہی کا ذکر کیا ہے۔

ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ باغیوں کے قبضے والے اس ضلع میں 600 سے زیادہ زخمی بغیر کسی طبی امداد کے پھنسے ہوئے ہیں۔

Image caption شام کے شہر القصیر پر کنٹرول کے لیے حکومت کے فوجی اور باغیوں میں زبردست جنگ جاری ہے

انھوں نے بتایا: ’وہ تین چار دنوں سے پینے کے پانی کے منتظر ہیں جن میں وہ پانی شامل نہیں ہے جو روز مرہ کے استعمال جیسے نہانے دھونے کے لیے ضروری ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ شہر پر ’مزید کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ‘ میں بچے اور خواتین مر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے لبنان کی شیعہ تحریک حزب اللہ کے ’کئی‘ جنگجوؤں کی لاش دیکھیں ہیں اور انھوں نے جنگ میں حزب اللہ جنگجوؤں کی شمولیت کو گیم چینجر کے طور پر بیان کیا۔

واضح رہے کہ حزب اللہ کو شام کے صدر کا حامی تسلیم کیا جاتا ہے۔

شامی باغی گروپ آزاد شامی فوج کے فوجی سربراہ جنرل سلیم ادریس نے بدھ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سات ہزار سے زیادہ حزب اللہ جنگجو قصیر کے حملوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

دریں اثناء امریکی اور برطانوی حکام شام میں ایک امریکی خاتون اور ایک برطانوی شخص کی موت کی غیر مصدقہ خبر کے بارے میں چھان بین کر رہے ہیں۔

شام کی سرکاری ٹی وی نے ان افراد کی نعشیں ان کے شناختی کارڈ کے ساتھ دکھائیں جنہیں سرکاری فوج نے شمال مغربی صوبے ادلیب میں باغیوں کے ساتھ لڑائی کے دوران ہلاک کیاتھا۔

خاتون کے اہل خانہ نے موت کی تصدیق کر دی ہے اور ان کا نام نکول مینسفیلڈ بتایا ہے۔ میشیگن کے فلنٹ کی رہنے والی 33 سالہ خاتون نے اسلام قبول کیا تھا۔

اسی بارے میں