برمی حکومت اور کاچن باغیوں کے درمیان جنگ بندی

کاچن
Image caption کے آئی او نصف صدی سے زیادہ عرصے سے کاچن کی خودمختاری کے لیے جنگ کر رہی ہے

برما کی حکومت اور کاچن باغیوں کی تنظیم کاچن انڈیپنڈنس آرگنائزیشن کے درمیان سات نکات پر اتفاق کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ ہو گیا ہے۔

ریاست کاچن کے دارالحکومت میچینا میں ہونے والے اس معاہدے میں جنگ بندی کے لیے کام کرنے اور دونوں جانب سے مسلح افواج کی از سر نو تعیناتی کی بات شامل ہے۔

اس میں وعدہ کیا گیا ہے کہ کاچن کی سیاسی حیثیت کے بارے بات چیت بعد میں کی جائے گی۔

کاچن انڈیپنڈنس آرگنائزیشن( کے آئی او) اور فوج کے درمیان سنہ 2011 میں جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

جون 2011 میں جب 17 سالہ امن معاہد ٹوٹنے کے بعد یہاں سے ہزاروں افراد تشدد کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

برما کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون کے مشیر خاص وجے نامبیار حکومت اور کے آئی او کے درمیان ہونے والی سہ روزہ بات چیت میں مبصر کی حیثیت سے موجود تھے۔

اس بات چیت کے دوران چین کے نمائندے اور ملک کی دوسری نسلی اقلیتیں بھی موجود تھیں۔

Image caption یہ معاہدہ ڈیڑھ سال کے دوران آٹھ بار ہونے والی بات چیت اور آنگ من کی کوششوں کا نتیجہ ہے

بنکاک میں بی بی سی کے نمائندے جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ڈیڑھ سال کے دوران آٹھ بار ہونے والی بات چیت اور حکومت کی نمائندہ ٹیم کے سربراہ آنگ من کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

کے آئي او کا اصلاً اس بات پر زور تھا کہ صرف جنگی بندی کافی نہیں ہے۔ وہ نگرانی کے لیے بین الاقوامی مبصرین کی تعیناتی کے ساتھ کاچن کی خود مختاری کے لیے سیاسی بات چیت کی خواہاں تھے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا نظر آ رہا ہے کہ انھوں نے سات نکاتی معاہدے میں مستقبل میں سیاسی بات چیت کے وعدے کے تحت جنگ بندی کو قبول کر لیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کے آئی او کے مندوبین کو ریاستی دارالحکومت میچینا کا جو پرجوش استقبال کیا گیا ہے اس سے ان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔

اس سے قبل ہونے والی بات چیت چین، تھائی لینڈ اور برما کے اندر سرحد کے قریب ہوئی تھی۔

گذشتہ سال جب برما کی فوج نے کے آئی او کی پوزیشنز پر حملے کے لیے شدید فضائی بم باری کا سہارا لیا تھا تو اس کی وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ کے آئی او نصف صدی سے زیادہ عرصے سے خودمختاری کے لیے بر سرِ پیکار ہے۔

ان کی زیادہ تر جھڑپیں چینی سرحد کے قریب لائیزا کے اطراف میں ہوئیں ہیں۔

اسی بارے میں