اسقاط حمل یا قبل از وقت ولادت کا آپریشن

بیٹریز کی حمایت میں
Image caption ایل سلواڈور میں بیٹریز کے معاملے نے سقاط حمل کے متعلق ملک کے سخت قانون کی جانب علمی توجہ مبذول کرائی ہے

لاطینی امریکہ کے ملک ایل سلواڈور کی سپریم کورٹ سے اسقاط حمل کی اجازت نہ ملنے پر ایک سخت بیمار خاتون نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے آپریشن کے ذریعے قبل از وقت بچے کی پیدائش کے شعبے میں جائیں گی۔

بیتریز نامی اس بائیس سالہ خاتون کے وکیلوں نے ان کی جان کو لاحق خطرے کی بنیاد پر سپریم کورٹ سے اسقاط حمل کی اپیل کی تھی کیونکہ وہ شدید بیمار ہیں اور انھیں لیوپس ہے اور ان کےگردے نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔

لیوپس ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام اپنے ہی خلاف کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔

واضح رہے کہ ایل سلواڈور میں کسی بھی صورت میں اسقاط حمل پر پابندی ہے لیکن ایل سلواڈور کی وزیر صحت نے کہا ہے کہ قبل از وقت سیزیریئن کا آپشن قابل قبول مداخلت ہے۔

وزیر صحت ماریہ رودریگوئز نے میڈیا کو بتایا کہ ’اب تک یہ کافی واضح ہو چکا ہے کہ حمل میں مداخلت اسقاط حمل نہیں یہ قبل از وقت پیدائش کی کوشش ہے جو کہ اسقاط حمل سے الگ دوسری چیز ہے۔‘

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’حاملہ خاتون کی جان بچانا اہم ہے‘۔ان کا اشارہ بائیس سالہ خاتون بیتریز کی جانب تھا۔

خبر رساں ادارے اے ايف پی سے بات کرتے ہوئے بیتریز نے کہا وہ ’بہت گھبرائی ہوئی‘ ہیں اور سیزیرین شعبے سے اپنی صحت کی ضمانت چاہتی ہیں۔

دارالحکومت سین سلواڈور کے قومی میٹرنیٹی ہسپتال سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’ہمارے ساتھ جو کیا گیا وہ درست نہیں تھا۔ انھوں نے مجھے ہسپتال میں انتظار کراکر مجھے پریشانی میں مبتلا رکھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے ہونے والے آپریشن کے متعلق حکومت کے کسی بھی اہلکار سے ان کا رابطہ نہیں ہے۔

میٹرنیٹی ہسپتال کی طبی کمیٹی، وزارت صحت اور انسانی حقوق کے گروپ تمام بیتریز کی اپیل کے حق میں تھے لیکن بدھ کو سپریم کورٹ کی عدالت نے اس اپیل کو چار کے مقابلے ایک ووٹ سے مسترد کر دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’یہ عدالت یہ فیصلہ دیتی ہے کہ نہ ماں کو اپنے نا آفریدہ بچے پر فوقیت حاصل ہے اور نہ بچے کو اپنی ماں پر اور حمل ٹھہرنے سے لے کر انسانی حقوق کے تحفظ کے آئینی حق کے تحت اسقاط حمل پر پوری طرح سے پابندی ہے۔‘

ججوں کا کہنا تھا کہ طبی اور نفسیاتی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ بیتریز کا مرض قابو میں ہے اور وہ اپنے حمل کو جاری رکھ سکتی ہیں۔

پانچ میں سے ایک جج گونزالیز نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اگر بیتریز کا حمل نہیں ضائع کیا گیا تو ان کی جان جا سکتی ہے۔

بہر حال طبی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ رحم مادر میں26 ہفتوں کے بچے یا جنین کی بغیر مکمل دماغ کے نشو نما ہو رہی ہے۔ اس طرح کے جتنے بچے پیدا ہوتے ہیں وہ ولادت کے وقت یا اس کے فورا بعد مر جاتے ہیں۔

اس معاملے نے ایل سلواڈور کے اسقاط حمل کے سخت قانون کی جانب عالمی توجہ مبذول کرائی ہے خاص طور سے ایسے لوگوں کی جو ماں کی زندگی کے لیے اسقاط حمل کے حق میں ہیں۔

اسی بارے میں