’مظاہرے فوری بند کیے جائیں، پارک کا منصوبہ جاری رہے گا‘

ترکی
Image caption استنبول کے مظاہرے ملک کے دوسے حصوں میں پھیل گئے ہیں

ترکی کے شہر استنبول میں جمعہ کو مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے بعد مظاہروں کا سسلسلہ دوسرے دن بھی جاری ہے۔

دوسری جانب ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے مظاہروں کو فوری طور پر ختم کرنے کا کہا ہے اور کہا ہے کہ غازی پارک کو دوبارہ بنانے کا منصوبہ جاری رہے گا۔

ترکی کے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ الزامات کی بھی تحقیقات کرائیں گے کہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا ہے۔

خیال رہے کہ جمعہ کو مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے تھے۔

مظاہروں کو روکنے کے لیے ترکی کے دیگر صوبوں سے پولیس بلائی گئی ہے۔ استنبول کے بعض حصوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور ٹریفک جام ہے۔

ترکی کے تقسیم سکوائر میں واقعہ غازی پارک کو دوبارہ بنانے کے منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا تاہم یہ اس وقت پرتشدد ہوگئے جب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

عینی شاہدین کا کہا ہے اچانک ہی مظاہرین پر آنسو گیس کا استعمال کر دیا گیا جو بہت حد تک پر امن مظاہرہ کر رہے تھے۔

کہا جا رہا ہے مظاہروں کا سلسلہ ترکی کے دوسرے شہروں انقرہ، بودروم، قونیہ اور ازمیر تک پھیل گیا ہے۔

خبروں میں بتایا گيا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت میں سنیچر کو استنبول کی معروف بوس فورس پل کو پار کیا۔

Image caption جمعہ کو ہونے والے تشدد میں دسیوں افراد کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے

استنبول میں بی بی سی کی نمائندہ لوئیس گرین ووڈ کا کہنا ہے کہ اناتولیا جیسے دور دراز کے علاقے سے بھی پولیس کو تشدد پر قابو پانے کے لیے بلایا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مرکزی ضلع تقسیم اور اس کے اطراف کے علاقوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور استنبول کے اہم پلوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

استنبول کے گورنر نے کہا ہے کہ جمعہ کو ہونے والے تشدد میں دسیوں افراد کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے اور 60 سے زیادہ افراد کو تصادم کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

انقرہ کے مظاہرے کو اتحاد یا یکجہتی ریلی کا نام دیا گیا تھا جس کے بہت سے شرکاء یہ نعرہ لگا رہے تھے ’ہر جگہ مزاحمت ہے، ہر جگہ تقسیم ہے‘۔

امریکہ نے مظاہروں سے نمٹنے کے ترکی طریقے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشل نے پولیس کے طریقوں کی مذمت کی ہے۔

اسی بارے میں