ترکی:تیسرے دن بھی مظاہرے جاری

Image caption ترک وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر مظاہروں کو غیرجمہوری عمل قرار دیا ہے

ترکی میں حکومت مخالف مظاہروں کے تیسرے دن بھی دسیوں ہزاروں افراد نے استنبول سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج میں شرکت کی ہے۔

ان مظاہروں کا آغاز دو دن پہلے استنبول میں ایک عوامی باغ کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرکس اور اس میں ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد ہوا تھا اور ان کا دائرہ انقرہ سمیت دیگر علاقوں تک پھیل گیا تھا۔

استنبول کے علاقے بسکتاس میں مظاہرین نے اتوار کو وزیراعظم کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور وہاں رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر آنسو گیس اور پانی کی دھار استعمال کی۔

ان مظاہروں میں اب تک سینکڑوں افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ترک وزیرِ داخلہ معمر گلیر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ اب تک ملک کے 67 شہروں میں 1700 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے کچھ کو بعدازاں رہا بھی کر دیا گیا۔

ادھر ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایک مرتبہ پھر ان مظاہروں کو غیرجمہوری عمل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبے پر کام جاری رہے گا۔ انہوں نے ترک حزبِ اختلاف پر مظاہرین کو بھڑکانے کا الزام بھی لگایا ہے۔

اس سے پہلے سنیچر کو انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پولیس نے طاقت کے استعمال میں’غطیاں‘ کیں اور مظاہرین پر طاقت کے استعمال کی شکایات کی تحقیقات کروائی جائیں گی۔

اتوار کو استنبول میں سینکڑوں مظاہرین دوبارہ قومی پرچم لہراتے ہوئے شہر کے وسط میں واقع تقسیم سکوائر پر پہنچے اور نعرے بازی کرتے رہے کہ حکومت مستعفیٰ ہو جائے۔

ادھر انقرہ میں وزیراعظم کے دفتر کے قریب جمع ہونے والے ایک ہزار کے قریب مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

Image caption استنبول میں سینکڑوں مظاہرین تقسیم سکوائر پر پہنچے اور نعرے بازی کرتے رہے

استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ بہت سارے لوگ حکومت سے بیزار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت ان کی ذاتی آزادی کا کچھ حصہ واپس لینا چاہتی ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ استنبول میں جاری بارش کی وجہ سے مظاہرے متاثر ہوئے اور بڑی تعداد میں مظاہرین کچھ دیر آرام کے لیے گھروں کو واپس چلے گئے تاہم مظاہرے دوپہر کے بعد اور رات کے وقت ہوتے ہیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مظاہرین کو دوبارہ جمع ہونے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

مظاہرے میں شامل ایک شخص ایکن نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اختتام تک رکیں گے، ہم نہیں جا رہے ہیں، اور اب حکومت کے لیے صرف ایک ہی جواب ہے کہ اسے جانا ہو گا، ہم اس جابر حکومت سے تنگ آ چکے ہیں جو ہم پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے‘۔

خیال رہے کہ یہ گزشتہ کئی سالوں میں ترکی میں سب سے بڑے اور منظم حکومت مخالف مظاہرے ہیں۔

یہ مظاہرے استنبول کے غازی پارک میں ایک چھوٹے سے دھرنے سے شروع ہوئے تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ غازی پارک استنبول میں موجود چند سرسبز مقامات میں سے ایک ہے اور حکومت اس کے تحفظ کے لیے ان کی اپیلوں پر غور نہیں کر رہی۔

جب پولیس نے جمعہ کو دھرنا دینے والوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس استعمال کی تو ان کا دائرہ پھیلنے لگا۔ نامہ نگاروں کے مطابق یہ مظاہرے اب حکومت کی جانب سے ترکی کی ’اسلامائزیشن‘ کی کوششوں کے خلاف احتجاج کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

رجب طیب ارگان کی حکومت 2002 سے ترکی میں برسرِ اقتدار ہے۔ ان کی جماعت اے کے پارٹی کی سیاسی جڑیں اسلام میں ہیں لیکن اردگان کہتے رہے ہیں کہ وہ ترکی میں سیکولر ازم کے حامی ہیں۔

اسی بارے میں