رجب طیب اردوگان قومی رہنما یا سیاستدان

اگر آپ تقسیم سکوائر یا غازی پارک کے مناظر سے نتائج اخذ کرنے لگیں تو لگے گا جیسے پورا ترکی وزیر اعظم رجب طیب اردوگان سے نالاں ہے اور احتجاج کر رہا ہے۔

رات کے وقت جب اس علاقے کے ہمسائے میں رہائش پذیر لوگ اپنی کھڑکیوں اور بالکونیوں میں کھڑے ہو کر احتجاج کرنے والوں کے حق میں برتن کھڑکاتے ہیں تو یہ تاثر مزید تقویت پکڑتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس پارک اور تقسیم سکوائر کے باہر دوسرے لوگ بھی ہیں جن کے خیالات مختلف ہیں۔

اگر آپ باسفورس کے ایشائی کنارے سے کشتی پر سوار ہو کر استنبول کے نواحی علاقے اسکودار جائیں تو یہ احتجاج ایک بہت دور دراز کی بات لگتی ہے۔ اسکودار میں بڑے پیمانے پر کوئی بھی احتجاج نہیں کیا گیا۔

جب آپ کشتی سے اترتے ہیں تو کشتی کے اترنے کی جگہ پر آپ کو جوتے چمکانے والے نظر آئیں گے جو اپنے پیتل کے اوزار کھڑکا کر آپ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پچھلی ایک دہائی میں اس علاقے کو وزیر اعظم نے از سرِ نو تعمیر کیا ہے۔ اِن دنوں اُن کی حکومت ایک مسجد کی تزئین و آرائش کر رہی ہے اور ایک سرنگ بھی تعمیر کر رہی جس میں سے گزر کر میٹرو آپ کو باسفورس کے نیچے سے ایک کنارے سے دوسرے کنارے لیجائے گی۔

اس سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے وہ جگہ جہاں وزیر اعظم اردوگان نے مزید تعمیروترقی کے وعدے کر رکھے ہیں اس امید پر کہ استنبول کو 2020 کے اولمپکس کی میزبانی حاصل ہو سکے گی۔

اسکودار کی بازار میں آپ کو وزیر اعظم کے حامی اور مخالف دونوں ملیں گے اور ایک مچھلی بیچنے والے کے ٹھیلے کے قریب لوگ ایک بحث میں مشغول ہیں۔

ایک شخص جو سیاحت کے شعبے سے وابسطہ ہے کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی خطاؤں سے عاری نہیں ہے اردوگان کی بعض اچھی پالیسیاں بھی ہیں اور بعض بری۔ نوے فیصد کام جو انہوں نے کیے ہیں وہ ملک کے لیے اچھے ہیں اور اس کی وجہ سے بہت سے لوگ ہیں جو ان سے محبت کرتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ان سے نفرت کرتے ہیں۔ مگر لوگوں کو پولیس کی گاڑیاں اور پتھر نہیں پھینکنے چاہیں۔‘

ایک اور شخص کا اصرار تھا کہ ’اردوگان واحد رہنما ہیں اور وہ جدید ترکی کے بانی اتاترک کے بعد عظیم ترین رہنما ہیں۔ پولیس لوگوں پر اس وقت تو حملہ نہیں کرتی جب وہ کچھ نہیں ک رہے ہوتے۔ پولیس کا کام کیا ہے؟ لوگوں کی حفاظت۔‘

ایک بزرگ نے اس بحث میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ ’طیب اردوگان ایک آمر ہیں اور میں نے انہیں بہت برداشت کر لیا ہے، انہیں ہمارے بانی اتاترک یا ریاست کی بھی کوئی پروا نہیں ہے۔ عوام ان سے بیزار ہیں اور بہت برداشت کر چکے ہیں۔ طیب ملک کے لیے اچھا نہیں ہے‘۔

دوسرے لوگوں نے اس بزرگ کو بات کرنے دی۔ منقسم رائے کے باجود اسکودار کے علاقے میں کوئی احتجاجی مظاہرے نہیں ہوئے۔ اس علاقے میں کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا ہے کہ وزیر اعظم کی کرسی خطرے میں ہے مگر پہلی بار ان کا ترکی کے رہنما کی حیثیث سے مقام ایک کھلی بحث کا موضوع ہے۔