روسی صدر ولادیمیر پوتن اور اہلیہ کی طلاق

Image caption پوتن اور ان کی اہلیہ ایک بیلے دیکھ کر نکلے تھے کے سرکاری ٹی وی کی رپورٹر نے ان سے سوال پوچھا جس کے جواب میں انہوں نے اس فیصلے کے بارے میں بتایا

روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ان کی اہلیہ لیوڈمیلا نے طلاق کا فیصلہ کیا ہے۔

پوتن اور ان کی اہلیہ گزشتہ تیس سال سے رشتۂ ازدواج میں منسلک تھے اور انہوں نے طلاق کے فیصلے کا اعلان روسی سرکاری ٹی وی پر کیا۔

پوتن کی اہلیہکو بہت کم لوگوں نے حالیہ مہینوں میں پبلک میں دیکھا ہے جس کی وجہ سے روسی میڈیا میں مختلف قسم کی چہ مگویاں ہو رہی تھیں۔

روسی صدر نے روس کے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ’یہ ایک مشترکہ فیصلہ تھا، ہم بہت کم ایک دوسرے کو ملتے ہیں اور ہم دونوں کی اپنی اپنی علیحدہ زندگی ہے۔‘

پوتن کی اہلیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں شہرت بہت زیادہ پسند نہیں ہے اور انہوں نے ٹی وی پر بتایا کہ ان کے لیے ہوائی جہاز کا سفر مشکل ہوتا ہے۔

پوتن کی اہلیہ نے یہ بھی بتایا کہ اس طلاق کا فیصلہ ’مہذبانہ‘ طریقے سے طے کیا گیا اور طلاق کے بعد بھی پوتن اور اور وہ ’ہمیشہ اچھے تعلقات‘ رکھیں گے۔

صدر پوتن نے ٹی وی پر اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اب اکٹھے نہیں رہ رہے ہیں۔

صدر پوتن اور ان کی اہلیہ لیوڈمیلا شکریبنیوا کی شادی انیس سو تراسی میں ہوئی تھی اور ان کی دو بیٹیاں ہیں۔

صدر پوتن نے اپنی بیٹیوں کے حوالے سے کہا کہ ’ہمارے بچے بڑے ہو چکے ہیں اور ان کی اپنی زندگی ہے‘۔

صدر پوتن اور ان کی اہلیہ کو آخری بار اکٹھے سات مئی دو ہزار بارہ کو صدر پوتن کے تیسری بار صدر بننے پر دیکھا گیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو روزنبرگ نے ماسکو سے بتایا کہ ان کے اس اعلان سے کافی عرصے سے جاری خبروں اور افواہوں کی تصدیق ہو گئی ہے کہ ان دنوں کی شادی میں مسائل چل رہے ہیں۔

اس کے باوجود ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس خبر نے بہت سے روسی شہریوں کو حیران کیا ہے۔