یونان پر شامی مہاجرین کی کشتیاں دریا میں دھکیلنے کا الزام

شام میں جاری لڑائی کے بعد ہجرت کرنے والے کئی افراد ترکی کے راستے یونان جانے کے خواہشمند ہیں تاکہ یورپی یونین میں پناہ کی درخواست دیں سکیں۔ شامی مہاجرین کشتیوں کے ذریعے یورپ جاتے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ یونانی حکام مہاجرین کی کشتیوں کو ترکی کی سمندری حدود سے آگے بڑھنے نہیں دیتے اور حکام کے ان اقدامات کے مہلک نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

یونان کی مسلمان آبادی کے علاقے کی مقامی مسجد کے امام کے بیٹے نے پسماندہ پہاڑی علاقے میں تازہ قبروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہر چیز جو ہم اپنے خاندان یا اپنے والدین کے لیے کرتے ہیں ہم ان افراد کے لیے بھی ویسا ہی کرتے ہیں ہم انہیں اسلامی طریقے سے دفناتے ہیں‘۔

قبرستان سڈرو کے باہر ہے جو یونان میں دریائے ایوروس کے کنارے مسلمانوں کا گاؤں ہے۔

مرنے والے چار سو افراد غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے لیےدریا عبور کرتے ہوئے ڈوب گئے تھے جنہیں بعد میں یونان کی مقامی مسلمان آبادی نے دفنایا۔

مسجد کے مقامی امام کے بیٹے نے کہا کہ ’وہ پوری دنیا سے یہاں آ رہے ہیں لیکن ہم انہیں اپنا بھائی تصور کرتے ہیں۔ وہ بہتر زندگی کے لیے یہاں کا رُخ کرتے ہیں لیکن بد قسمتی سے اُن کی قسمت ساتھ نہیں دیتی‘۔

دریا میں ڈوب کر مرنے والوں کی اکثریت شامی پناہ گزینوں کی ہے جو تشدد اور لڑائی کی وجہ سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق شام سے یومیہ سات ہزار افراد اپنے سامان اُٹھائے نقل مکانی کرتے ہیں۔ بعض مہاجرین کیمپوں میں پناہ لیتے ہیں اور جن کے پاس کچھ رقم ہوتی ہے وہ استنبول چلے جاتے ہیں تاکہ وہاں سے یورپ میں داخل ہونے کے لیے قدیمی راستہ استعمال کر سکیں۔

حال ہی میں ہجرت کرنے والے تین افراد دریائے ایورس کے کنارے واقع شہر ایڈرائن پہنچے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ اندھیرے میں سمگلر نے اُنہیں ربڑ کی بنی کشتی میں پھینک دیا۔

سلوا آل راجوس کے خاندان نے چھ ماہ قبل جب اپنے سفر کا آغاز کیا تو اُن کے ساتھ چالیس افراد تھے۔ خاندان کے سربراہ حکومتی خفیہ ایجنسی میں کام کرتے تھے۔ باغیوں نے انہیں قتل کرنے کی دھمکی دی لیکن اُن کے دریائے ایورس عبور کرنا کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔

خاتونِ خانہ نے اپنے خوف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب کشتی یونان کی جانب سفر کر رہی تھیں کہ پولیس نے اُنہیں منتشر کر کے پیچھے دھکیل دیا۔

انھوں نے بتایا کہ ایک اور خاتون جس کا چشمہ کھو گیا تھا اُس نے کہا کہ ’ میں کشتی میں نہیں جا سکتی میں دیکھ نہیں سکتی تھی‘۔ پولیس والےاُسے مارنے لگے اُس کے بیٹے نے کہا کہ میری ماں کو کیوں مار رہے ہو وہ ایک ضعیف خاتون ہے۔ جس پر پولیس نے لڑکے کی کنپٹی پر بندوق رکھ دی‘۔

مہاجرین کو دریا میں دھکیلنے کی بہت سی شکایات ملیں ہیں لیکن پولیس نے اس کے تردید کی ہے۔

مہاجرین کی نقل مکانی پر حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’بعض ایسے بھی کیسز سامنے آئے ہیں کہ دریا عبور کرنے کی کوشش میں لوگ ڈوب گئے‘۔

ترکی کے شہر ازمیر میں کُرد آبادی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ لوگ لاپرواہی کرتے ہیں اور وہ خواتین اور بچوں کو کشتی کے نچلے حصے میں پھینک دیتے ہیں۔

’ یہ چھوٹی کشتی بیس افراد کے لیے تھی جس میں 110 افراد کو سوار کر دیا گیا۔ کشتی وزن برداشت نہیں کر سکی۔ساحل سے دس کلومیٹر کے دور ہی ڈوب گئی‘۔

اُس نے بتایا کہ ان افراد میں تنتیس بچے تھے۔ ’میں نے دو سال، تین سال، پانچ سال ،سات سال کے بچے دیکھے اور ان میں خواتین بھی تھیں۔ میں نے اُس بچے کو دیکھا جو اپنے گیارہ افراد کے خاندان میں اکیلا بچا تھا۔ اُس کی ماں، باپ، بہن بھائی سب ہلاک ہو گئے تھے‘۔

یہ ایسے بہت سے واقعات میں سے ایک واقعہ ہے۔گزشتہ سال سے اب تک ہزاروں مہاجرین دریا میں ڈوبے ہیں لیکن اُن کی اصل تعداد معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حالیہ ماہ کے دوران دریائے ایورس میں چالیس غیر قانونی واقعات کی معلومات اکٹھی کی ہیں۔

یونانی پولیس اور کوسٹ گارڈ نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرین خود اپنے آپ کو خطرات میں ڈالتے ہیں۔ کوسٹ گارڈ کو مجبورًًا اُن کی جان بچانا پڑتی ہے اور انہیں بعد میں مہاجرین کے کیمپ میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

سلوا آل راجوس خاندان کے مہاجرین کا کہنا ہے کہ’ میں نے حجاب ختم کردیا ہے میں اور میری بیٹی تزئین وآرائش کرتے ہیں تاکہ ہم یورپی لگیں کیونکہ ہم نسل پرستوں کے حملے سے ڈرتے ہیں‘۔

گزشتہ دو برسوں میں 90 ہزار سے زائد شامی افراد حراست میں لیے گئے ہیں جبکہ سو میں سے صرف دو افراد کی پناہ کی درخواست دیتے ہیں اور پناہ کی درخواست منظور ہونے کی شرح محض ایک فیصد ہے۔

آل راجوس خاندان نے دوسری بار بھی دریا عبور کرنے کی کوشش کی اور ناکامی پر اُنہیں یونانی جیل میں قید ہونا پڑا۔ چھ افراد پر مشتمل یہ خاندان اب رہا ہو گیا ہے اور دارالحکومت ایتھنز میں ایک کمرے کے اپارٹمنٹ میں رہ رہے ہیں۔ سلوا آل راجوس کا کہنا ہے کہ شام سے نکلنے کے لیے انہیں اپنی ہر چیز فروخت کرنا پڑی لیکن دریا کے اسمگلر کے ہاتھوں انہیں اپنی تمام رقم سے ہاتھ دھونے پڑے۔

یونان میں سخت کفایت شعاری کی مہم کے باوجود شام سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد سے نمٹنے کے لیے اُس کے پاس وسائل بہت کم ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یونانی نہیں چاہتے کہ شامی اُن کے ملک میں آئیں اور دوسری جانب شامی افراد بھی یونان میں نہیں روکنا چاہتے ہیں مگر اب وہ یہاں پھنس گئے ہیں۔

اسی بارے میں