شامی فوج کا جولان کراسنگ پر دوبارہ قبضہ

Image caption اُنیس سو سرسٹھ میں شام کے ساتھ جنگ میں اسرائیل نے جولان کا پہاڑی علاقے پر قبضہ کر لیا تھا

شام کی سکیورٹی فورسز نے باغیوں سے شدید لڑائی کے بعد جولان کراسنگ پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے جبکہ اسرائیلی سرحد کے قریبی علاقے قنیطرہ میں شدید لڑائی جاری ہے۔

اس سے قبل شام میں باغیوں نے حکومتی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد جولان کراسنگ پر قبضہ کر لیا تھا۔

باغیوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین لڑائی میں تیزی اُس وقت آئی ہے جب حکومتی فورسز نے لبنان کی حزب اللہ کے تعاون سےقصیر کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔ شام کے سرحدی شہر قصیر کی آبادی گزشتہ تین ہفتوں سے محصور تھی۔

قصیر کی جھڑپ کے بعد شامی لڑائی میں حزب اللہ کا بڑھتا ہوا کردار نمایاں ہوا ہے جس سے خطے میں فرقہ ورانہ کشیدگی کو ہوا ملی ہے۔

امریکہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں ایران اور اُس کے لبنانی اتحادی حزب اللہ پر زور دیا ہے کہ وہ شام سے اپنی جنگجُو واپس بلا لیں۔

دوسری جانب بین الاقوامی برادری خصوصاً فرانس کا کہنا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بڑھتے ہوئے شواہد ’بین الاقوامی برادری کو کارروائی پر مجبور کر رہے ہیں‘۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ ’ہم بین الااقوامی قوانین کے اندر رہتے ہوئے ہی کارروائی کر سکتے ہیں۔‘

حزب اللہ لبنان کے شیعہ مسلک کے مسلمانوں کی سیاسی اور عسکری تنظیم ہے۔ اُنیس سو اسّی کی دہائی کے اوائل میں ایران کی مالی تعاون حزب اللہ منظرِ عام پر آئی تھی۔

گزشتہ شب شام کے حزبِ مخالف نے لبنانی سرحد کے اندر حزب اللہ کا گڑھ تصور کیے جانے والے علاقے بلبک میں کئی راکٹ داغے ہیں

حزب اللہ کے جنگجُو نے برطانوی اخبار دی ٹائمز کو بتایا کہ قصیر کی لڑائی بارہ سو خصوصی جنگجُو نے حصہ لیا۔ حزب اللہ کے سینیئر جنگجُو جاجی عباس نے بتایا کہ ’عمارتین بہت قریب تھیں ہم نے اُنہیں میٹر میٹر کے بجائے سینٹی میٹر سینٹی میٹر تک چھانا ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ وہ قصیر کی لڑائی میں ایک ہفتے تک شامل رہنے کے بعد واپس لوٹے ہیں۔

’ ہم نے اُنہیں (باغیوں) کو شمالی جانب دھکیلا اور پھر انہیں نشانہ بازوں کی مدد سے مار گرایا‘۔

شام کے سرکاری ٹی وی کی اطلاعات کے مطابق قصیر کی لڑائی میں کیی باغی ہلاک ہوئے اور کیی افراد نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

بین الاقوامی برادری شام کے تنازعے کے حل کے لیے کوشاں ہیں لیکن روس اور امریکہ تاحال امن مزاکرات کے لیے تاریخ کا تعین نہیں کر سکیں ہیں۔

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی نمائندہ الخضر ابراہیمی نے کہا تھا کہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد جون کے بجائے جولائی میں منعقد ہو گی۔

اسی بارے میں