’صارفین کے فون ریکارڈ امریکی ایجنسی کے پاس‘

Image caption عدالتی حکم سابق صدر جارج بش کے دور میں منظور کیے جانے والے پیٹریاٹک ایکٹ کے تحت جاری کیا گیا ہے

امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی ایک خفیہ عدالتی حکم کی مدد سے کروڑوں امریکی شہریوں کے ٹیلیفون ریکارڈ حاصل کر رہی ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی ایک خفیہ عدالتی حکم کے تحت امریکی کی سب سے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ویریزون سے روزانہ لاکھوں صارفین کے ٹیلیفون ریکارڈ حاصل کرتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی حکومت کے اس فیصلے کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا ہے۔

امریکی حکومت، نیشنل سکیورٹی ایجنسی اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ویریزون نے اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

امریکہ کے آئینی حقوق کے سینٹر نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی عدالت کی جانب سے لوگوں کی نگرانی کا سب سے وسیع حکم ہے۔

صدر بش کے دور میں منظور کیے جانے والے قانون پیٹریوٹ ایکٹ کے تحت جاری اس عدالتی حکم پر جج راجر ونسن کے دستخط ہیں۔

یہ حکم پچیس اپریل سے انیس جولائی تک کی مدت کے لیے ہے۔ اس عدالتی حکم میں یہ واضح نہیں ہے کہ یہ صرف تین ماہ کے لیے ہے یا کسی پچھلے عدالتی حکم کی تجدید ہے۔

اس عدالتی حکم کے تحت کمپنی پر لازم ہے کہ وہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کو اس تمام الیکٹرانک ڈیٹا کی تفصیلات مہیا کرے جس میں کس صارف نےکس وقت، کہاں اور کس نمبر پر فون کیا۔

کمپنی پر لازم ہے کہ وہ ٹیلیفون نمبر، کالنگ کارڈ نمبر، انٹرنیشنل سبسکرائبر شناختی نمبر ، انٹرنیشنل موبائل سٹیشن آلات نمبر، اور کال کی تاریخ اور وقت کے بارے میں مکمل معلومات مہیا کرے۔

البتہ اس عدالتی حکم کے تحت ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اپنے صارف کا نام، پتہ اور اس رابطے کے دوران مواد کے تبادلے کی معلومات دینے کی پابند نہیں ہے۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اس عدالتی حکم کے بارے میں کسی کو کوئی معلومات نہ فراہم کی جائے۔

گارڈین اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ انصاف نے اس عدالتی حکم کے حوالے اپنا ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے۔ ویریزون کمپنی کے ترجمان ایڈ میگفیدن نے کہا ہے کہ کمپنی کو اس معاملے پر کچھ نہیں کہنا ہے۔

اس سے پہلے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی طرف سے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے اہلکاروں کی جانب سے کی جانے والی تمام کالوں کا ریکارڈ حاصل کیا گیا تھا۔ نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے یہ قدم ایسوسی ایٹڈ پریس کی یمن میں القاعدہ کے حوالے سے ایک خصوصی خبر کی اشاعت کے بعد اٹھایا ہے۔

اسی بارے میں