’چین امریکہ تعلقات کا نیا خاکہ بنا رہے ہیں‘

Image caption مارچ میں چین کے صدر شی جن پینگ کا اپنا عہدہ سنھبالنے کے بعد امریکی صدر سے یہ پہلی ملاقات ہے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پام سپرنگ میں امریکہ اور چین کے صدور کا دو روزہ سربراہی اجلاس شروع ہوگیا ہے۔

اجلاس کے آغاز کے موقع پر براک اوباما اور شی جن پنگ نے باہمی اختلافات پر قابو پانے اور دونوں ممالک کے درمیان نئے تعلقات کے آغاز کا اعادہ کیا ہے۔

امریکی صدر نے شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول اور سائبر جاسوسی سمیت کشیدگی پیدا کرنے والے دیگرہ معاملات کا تذکرہ کیا ہے۔

مارچ میں چین کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد شی جن پینگ کی امریکی صدر سے یہ پہلی ملاقات ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ ’ہماری اتنی جلد ملاقات امریکہ اور چین کے مابین تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے‘۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ پُرامن چین کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ایسے معاشی نظام کے خواہاں ہیں جہاں تمام ممالک کے لیے یکساں قوانین ہوں‘۔

امریکی صدر نے زور دیا کہ سائبر سکیورٹی کے لیے دونوں ملکوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی دونوں ملکوں کے درمیان کچھ معاملات پر کشیدگی موجود ہے۔

چینی صدر نے کہا کہ ’میں اور صدر اوباما مستقبل میں امریکہ اور چین کے تعلقات کا خاکہ تشکیل دے رہے ہیں‘۔انھوں نے مزید کہا کہ’ بحر الکاہل کی وسعت میں چین اور امریکہ کے لیے کافی جگہ ہے‘۔

اس.اجلاس میں جمعہ کی شب دو طرفہ بات چیت کے بعد ’ورکنگ ڈنر‘ ہو گا جبکہ مذاکرتی ادوار سنیچر کو بھی جاری رہیں گے۔

توقع کی جا رہی تھی کہ دنیا کے دو بڑی معیشتوں کے سربراہان کی ملاقات ستمبر میں روس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ہو گی لیکن توقعات کے برعکس یہ ملاقات پہلے ہو رہی ہے۔

سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کینسجر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ دونوں رہنماؤں کی جانب سے اپنا اپنا از سرِ نو جائزہ لینے کا اقدام سے متاثر کُن ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ایسا تعلق بنانے میں کامیاب ہوں گے جس کی بنیاد حرکات کے بجائے نظریات پر ہو‘۔

اس ملاقات سے قبل وائٹ ہاؤس کے حکام نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حالیہ مہینوں میں مبینہ طور پر چینی حکومت کے احکامات کے بعد امریکہ میں ہیکنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ چین نے حکومت کی جانب سے ہیکرز کو تعاون فراہم کرنے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت میں تجارت ترجیحات میں شامل ہے جبکہ چین میں انسانی حقوق کی صورتحال اور سرحدوں کے تنازعات بھی بات چیت کا حصہ ہیں۔

اسی بارے میں